ڈنمارک کا ٹرمپ کے گرین لینڈ منصوبے کے خلاف ڈٹ جانے کا اعلان

Greenland Greenland

ڈنمارک کا ٹرمپ کے گرین لینڈ منصوبے کے خلاف ڈٹ جانے کا اعلان

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کے سامنے ہر صورت ڈٹ کر کھڑا رہے گا۔ انہوں نے یہ سخت موقف ایسے وقت میں اختیار کیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ میٹے فریڈرکسن نے جمعرات کو اپنی سرکاری رہائش گاہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے قریبی اتحادی کی جانب سے آنے والی “دھمکیوں، دباؤ اور تحقیر آمیز گفتگو” پر شدید تنقید کی۔ اگرچہ انہوں نے امریکہ کا نام براہِ راست نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر واشنگٹن کی طرف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے ملک یا قوم کو خریدنے اور اپنے قبضے میں لینے کا تصور ایک فرسودہ اور ناقابلِ قبول سوچ ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق ڈنمارک تصادم کا خواہاں نہیں، لیکن حق اور باطل کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی دوران ڈنمارک کے بادشاہ فریڈرک دہم نے بھی نئے سال کی مناسبت سے اپنے خطاب میں دنیا کو “پُرآشوب دور” سے تعبیر کرتے ہوئے گرین لینڈ کے عوام کی طاقت اور وقار کو سراہا۔ انہوں نے آرکٹک خطے میں فوجی تربیتی سرگرمیوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا، جسے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری کو گرین لینڈ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔ ٹرمپ ماضی میں بھی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ ہونا چاہیے، جس کی وجہ اس کی اسٹریٹجک آرکٹک حیثیت اور معدنی وسائل کو قرار دیا جاتا ہے۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے امریکی اقدام کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے امریکی سفیر کو طلب کیا ہے۔ مزید برآں، ڈنمارک کی انٹیلی جنس سروس نے حال ہی میں امریکہ کو قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ واشنگٹن اپنے مفادات کے حصول کے لیے معاشی دباؤ اور حتیٰ کہ فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتا، چاہے سامنے اتحادی ہی کیوں نہ ہوں۔

Advertisement