لیبیا کے ساحل کے قریب مہاجرین کی کشتی الٹنے سے درجنوں ہلاک

immigrants boat immigrants boat

لیبیا کے ساحل کے قریب مہاجرین کی کشتی الٹنے سے درجنوں ہلاک

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
لیبیا کے ساحل کے قریب ایک ربڑ کی کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم تریپن مہاجرین ہلاک یا لاپتہ ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی ادارۂ مہاجرت کے مطابق یہ کشتی کل پچپن افراد کو لے کر لیبیا کے شہر الزاویہ سے پانچ فروری کی رات تقریباً گیارہ بجے روانہ ہوئی تھی اور تقریباً چھ گھنٹے بعد زوارہ کے شمال میں سمندر میں الٹ گئی۔ اقوامِ متحدہ کے اس ادارے نے زندہ بچ جانے والوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حادثے میں صرف دو نائجیرین خواتین زندہ بچ سکیں، جنہیں لیبیائی حکام نے تلاش اور بچاؤ کی کارروائی کے دوران سمندر سے نکالا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس حادثے میں اس کے شوہر کی جان چلی گئی، جبکہ دوسری خاتون کے مطابق اس نے اپنے دو کمسن بچوں کو کھو دیا۔

بین الاقوامی ادارۂ مہاجرت نے اس سانحے کو قابلِ تدارک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور وسطی بحیرۂ روم کے راستے پر محفوظ اور باقاعدہ نقل و حرکت کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ ادارے کے مطابق موجودہ صورتحال انسانی المیے کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

Advertisement

لیبیا افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کے لیے ایک اہم گزرگاہ بن چکا ہے۔ وسطی بحیرۂ روم کا یہ راستہ دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں گنجائش سے زائد بھری ہوئی اور غیر محفوظ کشتیاں اکثر یورپی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی ڈوب جاتی ہیں یا الٹ جاتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار چھبیس کے آغاز سے اب تک وسطی بحیرۂ روم کے راستے پر کم از کم چار سو چوراسی مہاجرین ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔ صرف جنوری کے مہینے میں شدید موسمی حالات کے دوران ہونے والے متعدد حادثات میں کم از کم تین سو پچھتر افراد کے مرنے یا لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔ ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی واقعات ریکارڈ ہی نہیں ہو پاتے۔

ادھر فروری کے پہلے ہفتے کے دوران دو سو چوالیس مہاجرین کو سمندر میں روک کر واپس لیبیا منتقل کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دو ہزار پچیس میں وسطی بحیرۂ روم کے راستے پر تیرہ سو چودہ مہاجرین لاپتہ ہوئے جبکہ ستائیس ہزار ایک سو سولہ افراد کو روک کر لیبیا واپس بھیجا گیا۔ عالمی ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک مجبور اور بے بس لوگوں کو غیر محفوظ کشتیوں میں سمندر کے حوالے کر کے مسلسل منافع کما رہے ہیں۔