الیکٹرک گاڑیوں میں سر چکرانے کی شکایت، ’خاموش سفر‘ نئی وجہ بن گیا

Car Car

الیکٹرک گاڑیوں میں سر چکرانے کی شکایت، ’خاموش سفر‘ نئی وجہ بن گیا

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک غیر متوقع مسئلہ بھی سامنے آنے لگا ہے، جہاں بعض مسافر سفر کے دوران متلی، سر چکرانے اور بے چینی کی شکایت کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تازہ سائنسی مشاہدات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ الیکٹرک گاڑیوں کا غیر معمولی حد تک ہموار اور خاموش سفر انسانی حواس کے لیے نیا تجربہ ہے، جس کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں دماغ کو وقت درکار ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ’موشن سکنس‘ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دماغ کو آنکھوں، اندرونی کان اور جسم سے ملنے والے اشاروں میں تضاد محسوس ہو۔ روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں میں انجن کی آواز اور وائبریشن حرکت کا ایک فطری احساس فراہم کرتے ہیں، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں میں یہ صوتی اور جسمانی اشارے کم ہونے کے باعث دماغ کے لیے صورتحال مختلف ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً کچھ افراد کو چکر یا متلی محسوس ہو سکتی ہے۔

یہ بحث مستقبل کی خودکار گاڑیوں کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر رہی ہے، جہاں ڈرائیور بھی ایک عام مسافر کی طرح اسکرین پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بصری توجہ سڑک سے ہٹ جائے تو موشن سکنس کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آٹو انڈسٹری کے ماہرین ایسے ڈیزائن اور سسٹمز پر کام کر رہے ہیں جو انسانی حواس کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جائیں، مثلاً بہتر سسپنشن، سافٹ ویئر بیسڈ موشن ایڈجسٹمنٹ اور کیبن فیڈبیک فیچرز۔

Advertisement

ماہرین کا کہنا ہے کہ وقتی طور پر مسافر اپنی سفری عادات میں معمولی تبدیلیاں لا کر اس مسئلے کو کم کر سکتے ہیں، جیسے سفر کے دوران موبائل کے استعمال میں کمی، باہر کے مناظر پر نظر رکھنا اور نشست کی مناسب پوزیشن اختیار کرنا۔