واشنگٹن کے احکامات سے تنگ آ چکی ہوں’، وینزویلاین عبوری صدر
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
وینزویلا کی عبوری صدر دلسی روڈریگز نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ “واشنگٹن کے حکموں سے تنگ آ چکی ہیں”۔ یہ بیان اس ماہ کے شروع میں امریکی فوج کی جانب سے صدر نکولس مادورو کے اغوا اور حراست کے بعد سامنے آیا ہے۔ روڈریگز نے اتوار کو ریاست پورٹو لا کروز میں تیل ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “اب بس واشنگٹن کے وینزویلا کے سیاست دانوں کو احکامات دینے کا سلسلہ ختم ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ “وینزویلا کی سیاست اپنے اندرونی اختلافات اور تنازعات خود حل کرے گی” اور ملک نے فاشزم اور انتہا پسندی کے نتائج کا “بھاری خمیازہ” بھگتا ہے۔ مادورو کے اغوا کے بعد روڈریگز کو عبوری صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے اعلان کیا تھا کہ کوئی “غیر ملکی ایجنٹ” وینزویلا پر کنٹرول نہیں کر سکتا اور ملک کو “نوآبادیہ” نہیں بنایا جا سکتا۔ تاہم بعد میں CIA ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے کاراکاس کا دورہ کیا اور مبینہ طور پر ٹرمپ کے مطالبات پیش کیے جن میں گھریلو اور خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں شامل تھیں۔
روڈریگز نے امریکی مطالبات پر عمل کرنا شروع کیا ہے جس میں تیل کے شعبے کو امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنا اور سیکیورٹی تعاون شامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ان سے فون پر بات چیت کے بعد انہیں “شاندار شخصیت” قرار دیا اور “تیل اور قومی سلامتی” میں “شاندار شراکت” کا وعدہ کیا۔ امریکی خزانہ سیکرٹری سکاٹ بیسنٹ نے بھی پابندیوں میں نرمی کا اشارہ دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ روڈریگز کو واشنگٹن بلایا جائے گا۔ امریکی آپریشن پر عالمی سطح پر شدید مذمت ہوئی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اسے “بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایمرجنسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر ویسیلی نیبنزیا نے واشنگٹن کے اقدامات کو “بین الاقوامی ڈکیتی” قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد “قدرتی وسائل پر لامحدود کنٹرول” حاصل کرنا ہے۔