
اشتیاق ہمدانی – ماسکو نامہ
جزیرہ نمائے عرب کی صورتِ حال یمن کی تحریک انصار اللہ کی نئی پیش قدمی اور سعودی عرب کی سرزمین پر حوثیوں کے حملوں کے باعث تیزی سے کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اصل مضمون کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں میں حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے المخا بندرگاہ پر قبضہ کر لیا ہے اور آبنائے باب المندب کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ آبنائے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
ریاض کے لیے یہ حالات ایک سنگین امتحان بن گئے ہیں۔ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے بیرونِ ملک سے اضافی مدد اور حمایت حاصل کرنے کی ضرورت بھی پیش آ رہی ہے۔ یہ صورتِ حال سعودی دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ اس کے اتحادی تعلقات اور سلامتی کی موجودہ حکمتِ عملی کو بھی آزمائش میں ڈال رہی ہے۔
اصل متن میں خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ۱۱ ستمبر کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی مدد کی درخواست کی تھی۔ واشنگٹن نے تحریک کے ٹھکانوں پر براہِ راست حملے کرنے سے گریز کیا، تاہم انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اہداف کی نشاندہی میں تعاون جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔
بعد ازاں امریکی حکام نے حوثیوں کے خلاف حملوں کے امکان پر دوبارہ غور کیا، لیکن ٹرمپ نے بالآخر فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مضمون میں امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے مشیروں نے خبردار کیا تھا کہ ایک نیا محاذ کھولنے سے تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔
یوں واشنگٹن، ریاض کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے فی الحال براہِ راست فوجی مداخلت سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے بیک وقت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور بیرونی سطح پر سلامتی کی مزید ضمانتیں تلاش کرنا ہوں گی۔
اسی پس منظر میں علاقائی سلامتی کے اس نئے انتظام کی عملی حیثیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں جسے اصل مضمون میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ’’مکہ معاہدہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ متن کے مطابق، اگست میں دستخط کیے گئے اس معاہدے میں طے کیا گیا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ تاہم اس پر عمل درآمد کے عملی طریقۂ کار ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہیں۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پہلے ہی یہ مؤقف ظاہر کر چکا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ یا یمن کے تنازع کا سعودی سرزمین تک پھیلاؤ اس معاہدے کو فعال کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ البتہ ممکنہ امداد کی نوعیت اور شکل اب بھی مشاورت کا موضوع ہے۔
اس اعتبار سے موجودہ صورتِ حال علاقائی سلامتی کے اس نئے ڈھانچے کا پہلا بڑا امتحان بن گئی ہے۔ ریاض کو اپنے اتحادیوں کی سیاسی حمایت تو حاصل ہو رہی ہے، لیکن معاہدے کے تحت رکن ممالک کی براہِ راست فوجی شرکت خودبخود شروع ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔
آذربائیجان کے سیاسی تجزیہ کار رضوان حسینوف کے مطابق، تنازع قابو میں رہنے کی حدود سے نکل کر ایک نئی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے خیال میں یہ خود سعودی عرب اور خلیج فارس سمیت دیگر دولت مند عرب ممالک کے لیے ایک اہم سبق ہے، جو یہ سمجھتے رہے کہ ہر مسئلہ مالی وسائل کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
بڑھتے ہوئے خطرات کے دوران ریاض نے اسرائیل کے ساتھ بھی ممکنہ انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت شروع کی۔ اصل مضمون میں دی یروشلم پوسٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ رابطے امریکی سینٹرل کمان کی وساطت سے ہوئے اور ان کا مقصد حوثیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔
ایسے رابطوں کا ہونا بذاتِ خود توجہ طلب ہے۔ ایک ایسا ملک جو روایتی طور پر اپنی سلامتی کے نظام کو امریکی حمایت اور عرب شراکت داروں کے گرد ترتیب دیتا آیا ہے، اب انٹیلی جنس اور فوجی تعاون کے ممکنہ ذرائع کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔
یہ صورتِ حال مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی و تزویراتی ترتیب کی پیچیدگی بھی ظاہر کرتی ہے، جہاں مشترکہ خطرات کا سامنا کرتے ہوئے پرانے سیاسی اختلافات بتدریج حالات کے تقاضوں کے مطابق تعاون کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
رضوان حسینوف کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کی سیاسی قیادت اور شاہی خاندان ابھی تک اس تبدیلی کی گہرائی کو پوری طرح نہیں سمجھ سکے جو عالمی سلامتی کے نظام میں رونما ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق، دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پانے والا نظام شدید شکست و ریخت سے گزر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مشرقی یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور قفقاز کے واقعات کا جائزہ لینے سے سعودی قیادت کو بہت پہلے اس نتیجے پر پہنچ جانا چاہیے تھا کہ عالمی سلامتی کا پرانا ڈھانچہ کمزور پڑ رہا ہے۔ اسی لیے ان کے خیال میں موجودہ حالات میں امریکہ، برطانیہ، حتیٰ کہ اسرائیل سے مدد کی اپیل کو مسائل کا مؤثر اور مستقل حل سمجھنا درست نہیں۔
حسینوف کہتے ہیں: ’’عالمی سلامتی کے نظام کا انہدام اور یہ حقیقت کہ امریکہ اب نیٹو اور یورو اٹلانٹک تعاون کے دائرے میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی ذمہ داری بھی پوری طرح نہیں اٹھا رہا، سعودی عرب کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے تھی۔ ہر خطے میں اپنی قیادت ابھر رہی ہے۔ ہمہ گیر عالمگیریت کی جگہ، خواہ عارضی طور پر ہی سہی، علاقائیت لے رہی ہے۔ پہلے امریکہ اور بعض عالمی طاقتیں کسی نہ کسی حد تک عالمی سلامتی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی ذمہ داری اٹھاتی تھیں، چاہے اپنے مفادات ہی کے تحت ایسا کرتی ہوں، لیکن اب یہ صورت باقی نہیں رہی۔ اسی لیے ہر خطے میں قیادت کے لیے کشمکش ہوگی، بلکہ شروع ہو چکی ہے۔ علاقائی طاقتیں نئے اتحاد قائم کریں گی اور یہی اتحاد اپنے اپنے خطوں کی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔‘‘
اس کی مثال دیتے ہوئے وہ جنوبی قفقاز کا ذکر کرتے ہیں، جہاں ان کے مطابق آذربائیجان، اپنے اتحادی ترکی اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی کا ایک نیا انتظام تشکیل دے رہا ہے۔ ان کے خیال میں مشرقِ وسطیٰ میں بھی ایسا ہی عمل آگے بڑھ رہا ہے، جہاں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب، اور ممکنہ طور پر مستقبل میں مصر بھی، کم از کم کسی حد تک استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس بحران کا ایک الگ اور نہایت اہم پہلو یمن کے اندر طاقت کے توازن سے متعلق ہے۔ اگر حوثی مزید کمزور ہوتے ہیں یا وہاں موجود قوتوں کے درمیان قائم توازن ٹوٹ جاتا ہے تو اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کیا ہوگی؟
یمن میں پہلے ہی متعدد مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ان میں جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ، جسے اے کیو اے پی کہا جاتا ہے، پیچیدہ کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اصل مضمون کے مطابق، اقوام متحدہ کی دستاویزات میں اس تنظیم اور صومالیہ کی الشباب کے درمیان قریبی رسدی اور عملی روابط کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ یہ تعلقات خلیج عدن کے گرد مسلح تنظیموں کے ایک سرحد پار نیٹ ورک کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
لہٰذا یمن میں اقتدار کا ممکنہ خلا صرف مقامی مسلح گروہوں کی تقویت کا باعث نہیں بنے گا، بلکہ وسیع تر بین الاقوامی شدت پسند نیٹ ورکس کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ حوثیوں کو طاقت کے توازن میں ایک روک پیدا کرنے والی قوت کے طور پر برقرار رکھنے کے حامی اسی خدشے کی بنیاد پر موجودہ توازن کو مکمل طور پر توڑنے کی مخالفت کرتے ہیں۔
رضوان حسینوف کا خیال ہے کہ اگر علاقائی طاقتیں جزیرہ نمائے عرب کی صورتِ حال پر قابو نہ پا سکیں تو بیرونی قوتیں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے انتشار کو جنم دینے کی کوشش کریں گی۔
وہ کہتے ہیں: ’’امید یہی ہے کہ اس خطے کے اہم ممالک اپنے باہمی اختلافات، رکاوٹوں اور ذہنی تحفظات پر قابو پا کر پورے خطے کو بچانے کے لیے متحد ہو سکیں گے۔‘‘
امریکہ کی محدود شرکت کے مقابلے میں برطانیہ کا کردار زیادہ نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مضمون کے مطابق، لندن نے ریاض کی درخواست پر سعودی عرب کو اضافی دفاعی مدد فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
متن میں بتایا گیا ہے کہ ۲۲ ستمبر کو برطانوی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ رائل ایئر فورس سعودی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے ایک وائجر طیارہ بھیجے گی۔ لندن کا کہنا ہے کہ یہ تعاون دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا تعلق علاقائی استحکام، تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ سے ہے۔
برطانوی فوجی اہلکار سعودی عرب کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع میں بھی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ لندن اس تعاون کو توانائی کی فراہمی اور تجارتی گزرگاہوں کے تحفظ کی ضرورت سے براہِ راست جوڑتا ہے۔
برطانیہ کے لیے یہ سلامتی کے ساتھ معاشی مفادات کا معاملہ بھی ہے۔ آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر عالمی تجارت کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں۔ خطے میں مزید عدم استحکام بحری نقل و حمل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
یمن کے گرد کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تنازع کی وجہ سے توانائی کی منڈی پہلے ہی شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ حوثیوں کی باب المندب کی جانب پیش قدمی بحری آمدورفت اور تیل کی برآمدات کے لیے ایک اضافی خطرہ پیدا کرتی ہے۔
سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات پر حملے اور اہم راستوں میں رکاوٹیں عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ ساتھ ہی ریاض کو اپنے محدود فضائی دفاعی وسائل مختلف خطرات کے درمیان تقسیم کرنا پڑ رہے ہیں۔ اصل مضمون میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلسل حملوں کے باعث سعودی عرب کے حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے دفاعی میزائلوں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔
اس طرح یمن کے گرد جاری تصادم بتدریج حوثیوں اور سعودی عرب کے باہمی محاذ سے کہیں آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، ترکی، پاکستان اور اسرائیل مختلف سطحوں پر اس صورتِ حال سے وابستہ ہو رہے ہیں، جبکہ اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کی سلامتی تک پہنچ رہے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے گا، یا مشرقِ وسطیٰ کو یمن، بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کے گرد ایک اور طویل المدت محاذِ تصادم کا سامنا کرنا پڑے گا؟
رضوان حسینوف امید ظاہر کرتے ہیں کہ یہ بحران جزیرہ نمائے عرب اور مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی کے نظام کے لیے ہمہ گیر خطرہ نہیں بنے گا۔ ان کے نزدیک موجودہ صورتِ حال سے نکلنے کا بہتر راستہ یہ ہے کہ سعودی عرب اپنے مسائل کے حل کے لیے ترکی اور پاکستان کے ساتھ زیادہ قریبی تعاون کرے اور مصر کے ساتھ بھی مشاورت آگے بڑھائے۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق، خطے میں پائیدار استحکام کے امکانات اسی وقت مضبوط ہوں گے جب علاقائی ممالک سلامتی کی مشترکہ ذمہ داری قبول کریں، باہمی اختلافات کو قابو میں رکھیں اور بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک مؤثر سیاسی و دفاعی لائحۂ عمل اختیار کریں۔