یورپی یونین کو صدر پوتن سے بات کرنا پڑے گی ، یورپی کمیشن کا اعتراف
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یورپی یونین نے اعتراف کیا ہے کہ یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے بالآخر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے دوبارہ مذاکرات کرنا ناگزیر ہوں گے۔ یورپی کمیشن کی چیف ترجمان پاؤلا پینہو نے پیر کے روز اس امر کی تصدیق کی۔ پاؤلا پینہو کا کہنا تھا کہ ’’ظاہر ہے کسی نہ کسی مرحلے پر صدر پوتن کے ساتھ بات چیت کرنا پڑے گی‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یورپی یونین امن کے لیے ’’انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہی ہے‘‘، تاہم ساتھ ہی یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ برسلز کو روس کی جانب سے مذاکرات میں عملی دلچسپی کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔ یاد رہے کہ یوکرین تنازع میں شدت آنے کے بعد 2022 سے یورپی یونین نے روس کے ساتھ روابط محدود کر دیے تھے تاکہ ماسکو کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کیا جا سکے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں یورپی یونین عملی طور پر مذاکراتی عمل سے باہر ہو گئی، خاص طور پر اس وقت جب فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسکو اور کییف کے درمیان امن کی کوششیں شروع کیں۔ روسی حکام اس کے برعکس متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ماسکو امن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ فروری کے بعد روسی اور امریکی حکام کے درمیان مختلف سطحوں پر ملاقاتیں ہوئیں، جن میں گزشتہ سال اگست میں الاسکا میں صدر پوتن اور صدر ٹرمپ کی ملاقات بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امن مذاکرات اب ’’آخری مراحل‘‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ روس اور یوکرین کے مذاکرات کاروں نے گزشتہ سال ترکیے میں بھی کئی ادوار کی براہِ راست بات چیت کی، تاہم 2022 کے اوائل میں شروع ہونے والا ابتدائی مذاکراتی عمل کییف کی جانب سے دستبرداری کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ دوسری جانب یورپی قیادت کے بیانات میں حالیہ مہینوں میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ دسمبر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے صدر پوتن سے دوبارہ بات چیت کو ’’مفید‘‘ قرار دیا، جبکہ گزشتہ ہفتے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی یونین روس سے بات کرے۔