یورپ کے دفاع کے لیے نئی ’’کولیشن آف دی ولنگ‘‘ کی ضرورت ہے، اسپین
ماسکو (صداۓ روس)
ہسپانوی وزیر خارجہ خوسے مانوئیل الباریس نے یورپ کے دفاع کے لیے ایک نئی یورپی ’’کولیشن آف دی ولنگ‘‘ کے قیام پر زور دیا ہے اور اسے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی خلیج کے تناظر میں یورپی اسٹریٹجک خودمختاری کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ جرمن جریدے ڈیر اشپیگل کو منگل کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں خوسے مانوئیل الباریس کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اپنا علیحدہ عسکری اتحاد تشکیل دینا ہوگا۔ ان کے مطابق سب سے پہلے یورپی دفاعی صنعتوں کو یکجا کرنا ضروری ہے، اور اس کے بعد ’’کولیشن آف دی ولنگ‘‘ بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یورپ یوکرین کے لیے ایسا کرنے کو تیار ہے تو اسے اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بھی اسی عزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ہسپانوی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو ڈنمارک سے الحاق کرنے کی کوششوں نے پورے عالمی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طاقت ہی قانون بن گئی تو دنیا ’’جنگل کے قانون‘‘ کی طرف چلی جائے گی، جہاں کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔
اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی گرین لینڈ کے معاملے کو نیٹو کے لیے ایک گہرا بحران قرار دے چکے ہیں اور کہا تھا کہ اس صورتحال نے مغربی ممالک کے نام نہاد ’’قواعد پر مبنی عالمی نظام‘‘ کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تعلقات میں اصولوں کی جگہ اب ’’طاقت ہی حق‘‘ کے اصول نے لے لی ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب رپورٹس کے مطابق امریکی پینٹاگون نیٹو کے مشاورتی اور تربیتی اداروں میں اپنی شمولیت کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی نیٹو ممالک پر مسلسل زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے دفاع میں زیادہ کردار ادا کریں، جبکہ انہوں نے اس بات پر بھی شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا یورپی ممالک کبھی امریکا کی مدد کے لیے آگے بڑھیں گے یا نہیں۔
ادھر گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا کی جانب سے ڈنمارک کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر یورپی یونین میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ بیلجیئم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے ان دھمکیوں کو ’’ناقابلِ تصور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کو اب اپنے وقار اور غلامی جیسے رویے کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا، جبکہ انہوں نے 80 سالہ اٹلانٹک ازم کے دور کے خاتمے کی بھی وارننگ دی ہے۔