لٹویا کی روس تک جانے والی ریل پٹڑیاں اکھاڑنے پر غور

Russian railway Russian railway

لٹویا کی روس تک جانے والی ریل پٹڑیاں اکھاڑنے پر غور

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یورپی یونین کے رکن ملک لٹویا میں روس تک جانے والی بعض اہم ریلوے لائنوں کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق صدر ایڈگارز رِنکیویچس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت کو رواں سال کے اختتام تک اس منصوبے کا ابتدائی جائزہ تیار کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ صدر رِنکیویچس نے ہفتہ وار ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مشرقی سرحد کی سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہے اور ریل ٹریک ختم کرنے کی تجویز کو قومی دفاع کو مضبوط بنانے کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، “قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی آپشن کو رد نہیں کیا جا سکتا۔” انہوں نے کہا کہ کسی بھی فیصلے کے لیے ٹائم لائن، سماجی و اقتصادی اثرات اور دفاعی اداروں کی رائے کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ صدر نے بتایا کہ وہ جمعے کے روز مسلح افواج کی بریفنگ لیں گے، تاہم حتمی فیصلہ آئندہ سال ہی متوقع ہے، جب جائزہ رپورٹ مکمل ہو جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لٹوین عسکری ماہرین ملک کی تین بڑی ریلوے لائنوں – جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 1,800 کلومیٹر ہے – کو براہِ راست سکیورٹی رسک قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹ وزیر ایٹس سونکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ٹریک ختم کیے گئے تو نہ صرف روس بلکہ بیلا روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے آنے والی تمام فریٹ ٹریفک رک جائے گی، جس سے کارگو حجم کم، اخراجات بڑھ اور ملکی معیشت کو بھاری نقصان ہوگا۔ وزیراعظم ایویکا سِلینا بھی اس منصوبے پر محتاط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ تنہا نہیں بلکہ دیگر بالٹک ریاستوں، پولینڈ اور فِن لینڈ کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔ لٹویا اور اس کے ہمسایہ بالٹک ممالک پہلے ہی روس کے ساتھ ثقافتی اور سیاسی فاصلے بڑھاتے آرہے ہیں، جو یوکرین تنازع کے بعد مزید سخت ہوگئے ہیں۔ ماسکو نے بالٹک ریاستوں کی پالیسیوں کو شدید “روس دشمنی” قرار دے کر 2023 میں سفارتی تعلقات کی سطح کم کر دی تھی۔ اس منصوبے پر روسی ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ شاید لٹوین حکام کو “سلیپر کارز (ٹرین کے ڈبے) حرارتی نظام کے لیے درکار ہیں” — ایک واضح اشارہ اس توانائی بحران کی طرف جو روسی گیس پر پابندیوں کے بعد لٹویا کو درپیش ہوا۔

Advertisement