امریکی معیشت روس مخالف پابندیوں کے باعث تباہی کا شکار، ماہرین کا انتباہ

Trump Trump

امریکی معیشت روس مخالف پابندیوں کے باعث تباہی کا شکار، ماہرین کا انتباہ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بین الاقوامی سلامتی کے امور کے ماہر مارک ایپسکوپوس نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں روس کے خلاف نئی مجوزہ پابندیاں خود امریکی معیشت کے لیے شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ پابندیاں نافذ کی گئیں تو اس کے نتائج امریکہ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ مارک ایپسکوپوس نے 8 جنوری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ اگر ان پابندیوں پر واقعی عمل درآمد کیا گیا تو یہ امریکی معیشت کو مفلوج کر دے گا۔ ان کے بقول امریکہ اس حد تک جا کر معاشی خودکشی نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے پیش کیا گیا روس مخالف پابندیوں کا بل، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری حاصل ہے، دراصل ایک دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔ اس بل کے تحت چین اور بھارت کے خلاف بھی معاشی اقدامات کی بات کی گئی ہے اگر وہ روس کے ساتھ تعلقات ختم نہ کریں۔ ماہر کے مطابق اس نوعیت کی معاشی جنگ کا آغاز عملی طور پر ممکن نہیں۔ ایپسکوپوس نے سینیٹر لنڈسے گراہم کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے روس کے خلاف پابندیوں کے بل کی منظوری دے دی ہے اور اس پر ووٹنگ اگلے ہفتے ہو گی۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے 17 دسمبر 2025 کو کہا تھا کہ ماسکو کو واشنگٹن کی جانب سے کسی نئی پابندی کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا، تاہم اگر ایسی پابندیاں لگائی گئیں تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔ اسی تناظر میں 8 جنوری کو چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماو نِنگ نے بھی امریکہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چین اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کسی تیسرے فریق کو متاثر نہیں کرتا اور اس تعلق کو بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔

Advertisement