شمالی ایران میں ہنگامہ آرائی کرنے والے پچاس منتظمین گرفتار
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کے شمالی صوبے گیلان میں عوامی بدامنی اور ہنگامہ آرائی منظم کرنے والے پچاس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ بات علاقائی پولیس کے سربراہ حسین حسن پور نے ہفتے کے روز 17 جنوری کو بتائی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حسین حسن پور نے کہا کہ بدامنی کے دوران فسادات یا لوٹ مار پر اکسانے میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کر کے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ حسین حسن پور کے مطابق صوبے میں اب تک گرفتار کیے گئے افراد کی مجموعی تعداد پندرہ سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز بدستور ان عناصر کی نشاندہی کر رہی ہیں جو بدامنی کی تنظیم اور ہم آہنگی میں ملوث رہے۔ اس سے قبل 12 جنوری کو غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا تھا کہ 2026 کے آغاز میں ملک میں پھوٹنے والے احتجاجات پر حکام قابو پا چکے ہیں۔ ایک روز قبل ایرانی نیشنل پولیس کے سربراہ سردار احمد رضا رادان نے بھی حکومت مخالف بغاوتوں کے متعدد سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی، جن کے بارے میں خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا کہ ان واقعات میں کم از کم 538 افراد ہلاک ہوئے ہو سکتے ہیں۔ 15 جنوری کو اقوامِ متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے کہا تھا کہ ایرانی حکام نے معاشرے کے ساتھ مکالمہ قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں احتجاجی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔