ایمسٹرڈیم میں ڈیڑھ سو سال پرانا تاریخی چرچ آتش زدگی سے تباہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم کے وسطی علاقے میں واقع وونڈل کیرک چرچ میں لگنے والی شدید آگ نے ڈیڑھ سو سال پرانی اس تاریخی عمارت کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ مقامی خبر رساں پورٹل این ایچ نیوز کے مطابق آگ رات تقریباً ایک بجے بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے چرچ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ چرچ کی چھت اور اندرونی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ عمارت کے منہدم ہونے کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی خدمات فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور چرچ کے اردگرد تمام سڑکوں کو حفاظتی طور پر بند کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق آگ کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر قریبی رہائشی عمارتوں سے درجنوں افراد کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم عمارت کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاحال آگ لگنے کی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا اور تحقیقات جاری ہیں۔ وونڈل کیرک ایک نیو گوتھک طرزِ تعمیر کا شاہکار تھا، جسے 1872 سے 1880 کے درمیان معروف ڈچ معمار پیئر کوئپرز نے تعمیر کیا تھا۔ یہی معمار ایمسٹرڈیم کے سینٹرل اسٹیشن اور رائکس میوزیم جیسے عالمی شہرت یافتہ تاریخی عمارات کے ڈیزائنر بھی تھے۔ یہ چرچ شہر کے مشہور وونڈل پارک کے قریب واقع تھا اور نیدرلینڈز کے قومی ثقافتی ورثے کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔
گزشتہ برسوں میں چرچ کو باقاعدہ مذہبی عبادات کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا تھا، بلکہ اسے ایک ثقافتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جہاں نمائشیں، موسیقی کے کنسرٹس اور مختلف سماجی تقریبات منعقد ہوتی تھیں۔ ماہرین اور مقامی شہریوں نے اس آتش زدگی کو نیدرلینڈز کے ثقافتی ورثے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے استحکام کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اس تاریخی چرچ کو بحال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس سانحے نے نہ صرف ایمسٹرڈیم بلکہ پورے ملک میں تاریخی عمارات کے تحفظ سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔