روس، امریکا اور یوکرین کے پہلے سہ فریقی مذاکرات جلد متوقع، زیلنسکی

Zelensky Zelensky

روس، امریکا اور یوکرین کے پہلے سہ فریقی مذاکرات جلد متوقع، زیلنسکی

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان پہلے سہ فریقی مذاکرات آئندہ دو دنوں میں متحدہ عرب امارات میں ہونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کے دوران کہی۔ زیلنسکی کے مطابق امریکی وفد آج ماسکو روانہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد اس دورے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد یوکرینی وفد کی امریکی ٹیم سے ملاقات ہوگی اور ان کے خیال میں یہی ملاقات امارات میں ہونے والے پہلے سہ فریقی مذاکرات کی بنیاد بنے گی۔ تاہم زیلنسکی نے اپنے بیان میں روس کی براہِ راست شرکت کا واضح طور پر ذکر نہیں کیا۔ ابھی تک نہ تو ماسکو اور نہ ہی واشنگٹن نے ان مجوزہ سہ فریقی مذاکرات کی باضابطہ تصدیق کی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا تصور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور تنازع کے حل کی کوششوں کے تناظر میں مسلسل زیرِ بحث رہا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ ایک سہ فریقی ملاقات ضرور ہوگی، تاہم اس وقت روس نے کہا تھا کہ ایسی کسی ملاقات کی تیاری سرگرم انداز میں نہیں ہو رہی۔ روسی حکام اس سے قبل متعدد بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ اگرچہ وہ صدر پوتن اور زیلنسکی کی ملاقات کے خلاف نہیں، لیکن ایسی ملاقات کو امن عمل کے آخری مرحلے کے طور پر دیکھتے ہیں، جب مذاکرات میں عملی پیش رفت ہو چکی ہو۔

Advertisement