روس، امریکا، یوکرین: سہ فریقی مذاکرات ابوظہبی میں ہوں گے، معاون روسی صدر

Yury Ushakov Yury Ushakov

روس، امریکا، یوکرین: سہ فریقی مذاکرات ابوظہبی میں ہوں گے، معاون روسی صدر

ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ایک اعلیٰ معاون نے اعلان کیا ہے کہ روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان پہلے سہ فریقی مذاکرات جمعے کے روز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ہوں گے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب صدر پوتن نے ماسکو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچیوں سے طویل ملاقات کی۔ روسی صدر نے تقریباً چار گھنٹے تک امریکی مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور فیڈرل ایکوزیشن سروس کے کمشنر جوش گرونبام سے بات چیت کی۔ روسی وفد میں صدر کے معاون یوری اوشاکوف اور سرمایہ کاری کے خصوصی نمائندے کریل دمترییف بھی شامل تھے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوری اوشاکوف نے ان مذاکرات کو “بامقصد، تعمیری اور نہایت کھلا” قرار دیا۔ ان کے مطابق سلامتی سے متعلق سہ فریقی ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس جمعے کو ابوظہبی میں ہوگا۔ روسی وفد کی قیادت ایڈمرل ایگور کوستییوکوف کریں گے، جو روسی فوجی انٹیلی جنس ادارے جی آر یو کے سربراہ ہیں، اور انہیں صدر پوتن کی جانب سے واضح ہدایات دی جا چکی ہیں۔ وفد چند گھنٹوں میں متحدہ عرب امارات روانہ ہوگا۔ اوشاکوف نے مزید بتایا کہ اسٹیو وٹکوف اور کریل دمترییف ابوظہبی میں الگ ملاقات بھی کریں گے، جس میں روس اور امریکا کے درمیان تجارتی امور پر بات چیت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی فریق نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ ماسکو اور کیف کے درمیان امن “علاقائی مسئلے کے حل کے بغیر ممکن نہیں”۔

یوری اوشاکوف کے مطابق روس یوکرینی بحران کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہو سکا تو روس میدانِ جنگ میں اپنے اہداف کے حصول کا عمل جاری رکھے گا، جہاں اس وقت روسی افواج کو برتری حاصل ہے۔ ادھر جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ بعد ازاں ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کیا، تاہم سرحدوں کے مسئلے کو “پیچیدہ” قرار دیا۔

Advertisement

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسے مواقع آئے جب صدر پوتن معاہدہ نہیں چاہتے تھے اور ایسے بھی وقت تھے جب زیلنسکی تیار نہیں تھے، لیکن اب ان کے بقول دونوں فریق معاہدہ کرنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرین ان روسی علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلائے جن پر وہ کنٹرول رکھتا ہے اور روس کی نئی سرحدوں کو تسلیم کرے، جن میں کریمیا اور ڈونباس کی جمہوریتیں دونیسک اور لوگانسک شامل ہیں۔ دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی کسی بھی قسم کی علاقائی رعایت دینے سے انکار کر چکے ہیں۔