سابق نیٹو سیکریٹری جنرل یینس اسٹولٹن برگ کا روس کے ساتھ مکالمے پر زور
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم کے سابق سیکریٹری جنرل یینس اسٹولٹن برگ نے مغربی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ جرمن اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے روس کے ساتھ یوکرین تنازع کے خاتمے پر بات چیت ضروری ہے، جیسا کہ امریکہ اور دیگر ممالک اس وقت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے بعد کسی مرحلے پر اسلحے کے کنٹرول سے متعلق ایک نئے عالمی ڈھانچے پر بھی بات ہونی چاہیے۔
یینس اسٹولٹن برگ نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ سرد جنگ کے دوران بھی عالمی طاقتیں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو محدود کرنے میں کامیاب رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کی حمایت کی تیسری بڑی وجہ روس اور یورپی ممالک کا جغرافیائی قرب ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر جرمنی کے چانسلر فریڈرک میرٹس نے کہا ہے کہ جرمنی، روس کو یورپ کا سب سے بڑا ہمسایہ ملک سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ توازن پر مبنی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہے ہیں کہ روس ایک یورپی ملک ہے۔ دوسری جانب روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے یوکرینی تنازع پر روس کے مؤقف سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ماسکو کا نقطۂ نظر واضح ہے اور اس کی مزید توثیق کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس برابری کی بنیاد پر مکالمے کے لیے تیار ہے، تاہم یورپی فریق کی جانب سے سنجیدہ آمادگی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔