فرانس نے ٹرمپ کے مجوزہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے سے انکار کردیا

Emmanuel Macron Emmanuel Macron

فرانس نے ٹرمپ کے مجوزہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے سے انکار کردیا

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ کے بعد حکمرانی اور تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے قائم کیے جانے والے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے درجنوں عالمی رہنماؤں کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، جس میں تین سالہ رکنیت کی پیشکش کے ساتھ مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔ یہ ادارہ عبوری مدت کے دوران فلسطینی تکنوکریٹ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ پیرس کو اس تجویز سے انکار کرنا ہوگا، کیونکہ موجودہ صورت میں بورڈ آف پیس کا منشور غزہ سے آگے تک پھیلا ہوا ہے اور اس طرح اقوامِ متحدہ کی جانب سے منظور شدہ امن منصوبے کے دائرہ کار سے تجاوز کرتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ متن میں یہ منشور فرانس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

فرانسیسی نشریاتی ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور ہونے والے بیس نکاتی منصوبے پر عملدرآمد میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ بورڈ کی انتظامی شاخ میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، مشرقِ وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد و مذاکرات کار جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی توقع ہے کہ ممالک جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ہونے والے معاشی فورم کے دوران اس بورڈ میں شمولیت اختیار کریں گے۔ بلومبرگ کے مطابق اس منصوبے پر یورپی سیاست دانوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق یورپی یونین میں فضا کو بے حد محتاط اور شکوک سے بھرپور قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو، جو اصولی طور پر بورڈ کے قیام کے حامی ہیں، یہ بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ اس معاملے پر اسرائیل اور امریکا کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ کریملن کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے اور وہ اس تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

Advertisement