گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش ‘سرخ لکیر’ پار کرنا ہوگی: فرانس کا امریکہ کو انتباہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانس نے امریکہ کو سفارتی سطح پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گرین لینڈ پر قبضے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو یہ ایک ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کرنے کے مترادف ہوگی اور اس کے یورپی یونین کے ساتھ معاشی تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ بات برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فرانسیسی وزیرِ خزانہ رولان لیسکیور نے یہ پیغام امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو پہنچایا۔ لیسکیور نے بتایا کہ انہوں نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کے دوران بھی امریکی حکام کو یہی مؤقف واضح انداز میں پیش کیا۔ فرانسیسی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ ایک خودمختار ملک کا خودمختار حصہ ہے جو یورپی یونین سے وابستہ ہے اور اس معاملے کے ساتھ کسی قسم کا کھلواڑ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ گرین لینڈ سلطنتِ ڈنمارک کا حصہ ہے، تاہم اس نے انیس سو پچاسی میں یورپی یونین کے پیش رو ادارے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اب اسے سمندر پار علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرینِ قانون اور یورپی حکام اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یورپی یونین کی مشترکہ دفاعی شق اس علاقے پر لاگو ہوتی ہے یا نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے لیے اس جزیرے پر کنٹرول ضروری ہے اور انہوں نے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔ رولان لیسکیور نے امریکی رویے کو ایک تضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن بعض معاملات میں اتحادی کے طور پر کام کرتا ہے جبکہ دیگر پہلوؤں میں ایک غیر متوقع حریف کا کردار ادا کر رہا ہے۔
متعدد مغربی یورپی ممالک نے امریکی الحاق کی دھمکیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ ڈنمارک نے جزیرے پر اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً پندرہ فرانسیسی فوجی گرین لینڈ پہنچ چکے ہیں، جبکہ جرمنی، سویڈن، ناروے اور برطانیہ نے بھی محدود تعداد میں فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ڈنمارک کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کر سکتے ہیں۔ دو ہزار آٹھ میں ہونے والے ریفرنڈم میں گرین لینڈ کے عوام نے ڈنمارک کے اندر خودمختار حیثیت برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ گرین لینڈ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا غیر براعظمی جزیرہ ہے، جس کا کل رقبہ بائیس لاکھ سولہ ہزار مربع کلومیٹر سے زائد ہے، تاہم اس کی آبادی محض ستاون ہزار کے قریب ہے۔