ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے اعلان کیا ہے کہ دوست ممالک کے بحری جہاز مناسب سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کے بعد Strait of Hormuz سے گزر سکتے ہیں، جبکہ دشمن ممالک کے جہازوں پر پابندی برقرار رہے گی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی Mehr News Agency کے مطابق International Maritime Organization میں ایران کے نمائندے نے کہا ہے کہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھا ہے، تاہم اس سہولت کا اطلاق صرف ان ممالک پر ہوگا جو ایران کے خلاف دشمنی میں شامل نہیں ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ پاکستان، بھارت اور چین جیسے ممالک کے جہاز سکیورٹی اقدامات سے ہم آہنگی کے بعد اس راستے کو استعمال کر سکتے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے وہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزر کر مختلف ممالک تک پہنچتی ہے، اس لیے اس کی بندش یا محدود رسائی عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
تاہم رپورٹس کے مطابق علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کئی شپنگ کمپنیاں سکیورٹی خدشات کے باعث اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہی ہیں، جبکہ بعض جہازوں کو سخت سکیورٹی جانچ کے باعث تاخیر کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔