ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ کر فی گیلن 3.79 ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو اکتوبر 2023 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے باعث سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ماہ قبل، جب یہ تنازع شروع نہیں ہوا تھا، امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 2.90 ڈالر فی گیلن تھی۔ ملک میں سب سے زیادہ قیمتیں ریاست کیلیفورنیا میں ریکارڈ کی گئی ہیں جہاں پیٹرول کی قیمت 5.54 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں کم پیٹرول قیمتوں کو اپنی توانائی پالیسی کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے آئندہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل قیمتوں میں کمی کو ریپبلکن پارٹی کے حق میں ایک اہم سیاسی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب کے میجر جنرل ابراہیم جباری نے 2 مارچ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے باعث آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے بند کیا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی برآمدات گزرتی ہیں۔
5 مارچ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو باضابطہ طور پر بند نہیں کیا گیا، تاہم ممکنہ حملوں کے خدشے کے باعث کئی آئل ٹینکرز اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
بعد ازاں 10 مارچ کو پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علیرضا تنگسیری نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو امریکا اور اسرائیل سے وابستہ تمام جہازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم بعد میں قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار میں کچھ کمی آ گئی۔