جرمن فوجی گرین لینڈ سے واپس روانہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی کی جانب سے گرین لینڈ میں تعینات کیے گئے ابتدائی 15 فوجیوں کا مشن مکمل ہو گیا ہے۔ جرمن مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر میلیوچک نے فنکے میڈیا گروپ کو بتایا کہ ڈنمارک کے ساتھ تعاون مثبت اور تعمیری رہا۔ بدھ کے روز ڈنمارک نے جزیرے پر ایک فوجی مشق کا اعلان کیا تھا، جس میں جرمنی، فرانس، سویڈن، ناروے اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک نے شرکت پر آمادگی ظاہر کی۔ ہر ملک نے ایک سے پندرہ اہلکار بھیجنے کا اعلان کیا۔ یہ پیش رفت ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکا کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جن کے اختتام پر حکام نے خود مختار خطے کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان “بنیادی اختلاف” کی تصدیق کی تھی۔
لیفٹیننٹ کرنل میلیوچک کے مطابق جرمن ٹیم نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر لی ہیں اور آنے والے دنوں میں جمع کی گئی معلومات کا تجزیہ کیا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کی کوششوں میں تیزی لائی ہے، جسے وہ امریکی قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں تاکہ آرکٹک میں چین اور روس کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تاہم بیجنگ اور ماسکو دونوں نے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے۔
امریکی صدر نے ڈنمارک کی فوجی موجودگی کا بارہا مذاق اڑایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے جزیرے کا دفاع محض “دو کتوں کی سلیجوں” سے کیا جا رہا ہے۔ اس ہفتے ٹرمپ نے کشیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ان امریکی تجارتی شراکت داروں پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا جو گرین لینڈ کے حصول کی امریکی کوششوں کی حمایت نہیں کرتے۔
یورپی رہنماؤں نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے ان دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا اور متحد و مربوط ردعمل کا وعدہ کیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن نے کہا کہ یہ اقدامات بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب تعلقات کو نقصان پہنچائیں گے اور ڈنمارک و گرین لینڈ کے ساتھ یورپی اتحاد کا اعادہ کیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی ان محصولات کو “مکمل طور پر غلط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نیٹو کمزور ہوتا ہے، اور امریکا کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا اعلان کیا۔