جرمن چانسلر فریڈرک میرز کا روس سے متعلق مؤقف میں یوٹرن

German chancellor Friedrich Merz German chancellor Friedrich Merz

جرمن چانسلر فریڈرک میرز کا روس سے متعلق مؤقف میں یوٹرن

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی کے چانسلر فریڈرک میرز نے روس سے متعلق اپنے مؤقف میں نمایاں تبدیلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کو اپنے ’’سب سے بڑے یورپی ہمسایہ‘‘ کے ساتھ دوبارہ توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بیان روس کے ساتھ روابط پر ان کے پہلے سخت مؤقف کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔ فروری 2022 میں یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد سے یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک نے روس کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی پالیسی اپنائے رکھی، جس کے نتیجے میں یورپی یونین عملاً ان امن مذاکرات سے باہر ہو گئی جو گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں شروع ہوئے تھے۔ اسی تناظر میں حالیہ مہینوں کے دوران یورپی یونین کے کئی ممالک نے ماسکو کے ساتھ سفارتی روابط کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ بدھ کے روز ایک خطاب میں جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے کہا کہ اگر طویل المدتی تناظر میں روس کے ساتھ دوبارہ توازن قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے اور امن قائم ہو جاتا ہے تو 2026 کے بعد مستقبل کی جانب بڑے اعتماد کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ان کے اس سابقہ مؤقف سے مختلف ہے جو انہوں نے گزشتہ سال جون میں جرمن اخبار زُوڈ ڈوئچے سائٹونگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اختیار کیا تھا، جس میں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کرنے کو بے مقصد قرار دیتے ہوئے ایسے کسی رابطے سے گریز کا عندیہ دیا تھا۔

Advertisement

جرمن چانسلر کے مؤقف میں یہ نرمی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل یورپی کمیشن کی چیف ترجمان پاؤلا پینہو نے کہا تھا کہ ایک نہ ایک مرحلے پر صدر پوتن سے بات چیت ناگزیر ہوگی۔ اس سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون بھی یوکرین تنازع پر ماسکو کے ساتھ مذاکرات کو ’’درست انداز میں‘‘ دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ روسی صدر اپنے فرانسیسی ہم منصب سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم ایسی کسی ملاقات کا مقصد ’’لیکچر دینا‘‘ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنا ہونا چاہیے۔ اسی دوران اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے بھی روس کے ساتھ بات چیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپ ماسکو سے براہِ راست گفتگو کرے۔ انہوں نے تجویز دی کہ یوکرین کے معاملے پر یورپی یونین کی مؤثر نمائندگی کے لیے ایک خصوصی ایلچی مقرر کیا جانا چاہیے۔