گرین لینڈ کا امریکا میں شامل ہونا نیٹو کے آرٹیکل 4 اور 5 سے متصادم ہوگا، ماہرین

US vs NATO US vs NATO

گرین لینڈ کا امریکا میں شامل ہونا نیٹو کے آرٹیکل 4 اور 5 سے متصادم ہوگا، ماہرین

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
فوجی و سیاسی تجزیاتی بیورو کے سربراہ الیگزینڈر میخائیلوف نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے امریکا میں شامل ہونے پر ہونے والی کسی بھی بحث سے نیٹو کے بنیادی اصولوں، بالخصوص آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 5، کی براہِ راست خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بات روسی خبر رساں ادارے تاس سے گفتگو میں کہی۔ الیگزینڈر میخائیلوف کے مطابق گرین لینڈ سے متعلق حالیہ بحث نے نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے، کیونکہ ڈنمارک نیٹو کے اندر امریکا کے زیرِ اثر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال ایک بار پھر یہ ظاہر کرتی ہے کہ نیٹو کا آرٹیکل 5 اور حتیٰ کہ آرٹیکل 4 بھی عملی طور پر غیر مؤثر ہو جاتے ہیں، کیونکہ امریکا خود کو دیگر نیٹو اتحادیوں سے الگ کر رہا ہے۔ ماہر کے مطابق نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے کسی اتحادی علاقے کی “دفاعی صلاحیتوں” پر نظر رکھنے کی زبان اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن نیٹو میں اپنے کردار کو نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب نیٹو میں اجتماعی دفاع کے مرکزی کردار کے بجائے یورپ کے لیے ہتھیار فراہم کرنے والے اور ڈونر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، اور اجتماعی حکمتِ عملی کے معاملے میں خود کو دیگر نیٹو ممالک کے برابر رکھ رہا ہے۔

الیگزینڈر میخائیلوف نے کہا کہ یہ طرزِ عمل نیٹو کے اجتماعی دفاع کے پورے ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو بطور نیٹو رکن ڈنمارک کے زیرِ انتظام گرین لینڈ کو بیرونی مداخلت سے تحفظ دینا چاہیے، لیکن اس کے برعکس امریکا ایک ایسے علاقے کو دھمکا رہا ہے جو نیٹو کے کنٹرول میں ہے اور خود اسی اتحاد کا رکن ہے جس میں مرکزی کردار بھی امریکا ہی ادا کرتا ہے۔

Advertisement