گرین لینڈ کے شہریوں کو پانچ دن کی خوراکی ذخیرہ رکھنے کی ہدایت

Greenland Greenland

گرین لینڈ کے شہریوں کو پانچ دن کی خوراکی ذخیرہ رکھنے کی ہدایت

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
گرین لینڈ کے وزیرِ ماہی گیری، شکار اور زراعت پیٹر بورگ نے امریکی کوششوں کے تناظر میں، جن کا مقصد جزیرے کو اپنے ساتھ ملانا ہے، شہریوں کو کم از کم پانچ دن کے لیے خوراک ذخیرہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ پیٹر بورگ نے 21 جنوری کو کہا کہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری ضروری ہے اور عوام کو چاہیے کہ وہ پانچ دن کے لیے بنیادی ضروریات کا انتظام رکھیں۔ ان کے مطابق جتنا زیادہ لوگ خود کفیل ہوں گے اور دوسروں کی مدد کر سکیں گے، اتنا ہی معاشرہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ سفارشات ممکنہ بحرانوں اور ان کے دورانیے سے متعلق پیشہ ورانہ تجزیوں پر مبنی ہیں، جن میں گرین لینڈ کے مقامی حالات، موسم اور انفراسٹرکچر کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں، پولیس اور دیگر متعلقہ تنظیموں کے تعاون سے ایک خصوصی رہنما کتابچہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا تفصیلی لائحہ عمل موجود ہے۔

ٹی وی چینل کے مطابق اس کتابچے کا عنوان “Crisis Ready – Prepare for Five Days” رکھا گیا ہے، جس میں شہریوں کو پانچ دن کے لیے خوراک کے ساتھ ساتھ فی فرد روزانہ تین لیٹر پانی ذخیرہ کرنے اور پالتو جانوروں کے لیے بھی پانی کا انتظام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عوام کو اپنے شکار کے ہتھیاروں کی جانچ، مناسب مقدار میں گولہ بارود، ماہی گیری کا سامان اور ضروری ادویات رکھنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

Advertisement

گرین لینڈ کی حکومت نے ہنگامی اطلاعات کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے ریڈیوز کی فراہمی کی پیشکش بھی کی ہے، جبکہ شہریوں کو ایمرجنسی فون نمبرز کی اہمیت بھی یاد دلائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ 20 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے کہاں تک جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جزیرے کے عوام ممکنہ طور پر امریکہ میں شمولیت کا خیر مقدم کریں گے، کیونکہ انہوں نے خود گرین لینڈ کے لوگوں سے بات کی ہے۔ اسی روز صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا اور بعض ڈینش حکام تو جزیرے کا دورہ تک نہیں کرتے، لہٰذا امریکہ کو گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے۔