حماس کی ہتھیار ڈالنے پر آمادگی، قیادت کو غزہ سے محفوظ انخلا کی پیشکش
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے، بشرطیکہ اس کی قیادت کو غزہ سے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے اور تنظیم کو مکمل طور پر سیاسی سرگرمیوں تک محدود کر دیا جائے۔ عرب خبر رساں ادارے اسکائی نیوز عربیہ نے یہ دعویٰ ایک نامعلوم فلسطینی ذریعے کے حوالے سے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حماس نے مبینہ طور پر اپنے بعض ہتھیار اور زیرِ زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کے نقشے ایک ایسے طریقۂ کار کے تحت امریکا کے حوالے کر دیے ہیں جس کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ اس کے بدلے امریکا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حماس کو غزہ میں سیاسی عمل کا حصہ رہنے دیا جائے گا، جبکہ تنظیم سے وابستہ بعض بیوروکریٹس اور پولیس اہلکار نئی انتظامیہ کے تحت کام جاری رکھ سکیں گے، تاہم اس کے لیے انہیں اسرائیلی۔امریکی سیکیورٹی جانچ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق حماس کی قیادت کو غزہ سے نکلنے کی اجازت بھی دی جائے گی اور امریکا نے انہیں یقین دلایا ہے کہ اسرائیل مستقبل میں بیرونِ ملک انہیں نشانہ نہیں بنائے گا۔ اس رپورٹ پر تاحال نہ تو حماس اور نہ ہی امریکا کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ اسرائیل نے بھی اس حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو ان مجوزہ انتظامات پر شدید تحفظات ہیں، بالخصوص اس نکتے پر کہ حماس کو غزہ میں سیاسی کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
واضح رہے کہ غزہ پر گزشتہ دو برس سے جاری جنگ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بارہا حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام پر دستخط کیے ہیں۔ ابتدا میں اس بورڈ کو خلیجی عرب ممالک کے چند ماہرین پر مشتمل ایک محدود ادارہ تصور کیا جا رہا تھا، جس کا مقصد غزہ کی تعمیر نو اور نظم و نسق کی نگرانی تھا، تاہم اب یہ ایک وسیع بین الاقوامی تنظیم کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کی سربراہی خود صدر ٹرمپ کر رہے ہیں۔
بورڈ آف پیس کی تین سالہ رکنیت ساٹھ ممالک کو پیش کی گئی ہے، جبکہ مستقل رکنیت ایک ارب ڈالر کے عوض دی جا رہی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر صدر پوتن کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے اور انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ امریکا میں منجمد روسی اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر عطیہ کرنے پر تیار ہیں، خواہ وہ بورڈ میں شامل ہوں یا نہیں۔ اب تک بائیس ممالک اس بورڈ میں شامل ہو چکے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بورڈ کے چارٹر میں ’’غزہ‘‘ کا نام ایک مرتبہ بھی شامل نہیں، جس پر ناقدین نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر ایک نیا عالمی ادارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے غزہ تنازع کے حل کے لیے اپنے بیس نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان بھی کیا تھا، جس کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے اور غزہ کا کنٹرول نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے حوالے کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں پندرہ فلسطینی ماہرین شامل ہیں اور اس کا پہلا اجلاس گزشتہ جمعرات کو قاہرہ میں منعقد ہوا۔
اگرچہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم اس کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک چار سو پچاس سے زائد فلسطینی اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔