ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یمن کے حوثیوں نے مدینہ شہر میں بجلی گھر کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ سعودی زیرقیادت اتحاد نے قبل ازیں عسکریت پسند گروہ پر مسجد نبوی، جو مسلم دنیا کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے، کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیب کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ ایک اعلیٰ حوثی عہدیدار نے اس الزام کو گروہ کی شبیہ خراب کرنے اور ماضی میں اتحاد کی جانب سے کیے گئے اسی طرح کے دعووں کو تقویت دینے کے مقصد سے “جھوٹ” قرار دیا۔ جمعرات کو سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے یمنی عسکریت پسندوں پر اسی ہفتے مدینہ میں طیبہ بجلی تقسیم کار سٹیشن پر حملے کا الزام عائد کیا، جسے انہوں نے “بزدلانہ دہشت گردانہ عمل” قرار دیا اور حوثیوں کی مبینہ وسیع تر مہم کا حصہ بتایا، جس کا مقصد “حرمین شریفین کو نشانہ بنانا” ہے۔
ستمبر کے وسط میں سعودی عرب نے حوثیوں پر مقدس شہر مکہ کی جانب ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے مطابق بغیر پائلٹ گاڑی کو روک کر تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس وقت یمنی تحریک کے رہنما عبدالملک الحوثی نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں اس دعوے کو “قبیح جھوٹ” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، اور دعویٰ کیا کہ ریاض اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے “جھوٹ کو ہتھیار بنا رہا” ہے۔ ان پیش رفتوں نے ترکی اور پاکستان میں خدشات کو جنم دیا ہے، جنہوں نے اگست میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کی “حرمت کو کسی بھی خطرے” کو ایک ایسی “سرخ لکیر” قرار دیا جسے کبھی عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
انقرہ نے اس ہفتے مبینہ مدینہ حملے کی مذمت کی۔ ترک حکومت کے ترجمان برہان الدین دوران نے جمعہ کو ایکس پر لکھا کہ حرمین شریفین کی حرمت، امن اور سلامتی کو نشانہ بنانے والا کوئی بھی حملہ پوری اسلامی دنیا کی مشترکہ حساسیت کے خلاف ناقابل قبول توہین ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ترکی “سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا”۔ یہ پیش رفتیں حوثیوں اور سعودی زیرقیادت اتحاد کے مابین جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہیں۔ ریاض 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کے بعد سے حوثیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی میں کافی حد تک کمی آئی تھی، تاہم اس موسم گرما میں تنازع دوبارہ بھڑک اٹھا جب حوثی زیرِ کنٹرول یمنی دارالحکومت صنعاء میں ہوائی اڈے پر بمباری کی گئی تاکہ ایران سے واپس آنے والے ایک حوثی وفد کو لینڈ کرنے سے روکا جا سکے۔