ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ڈائنوسار کے معدوم ہونے کی وجہ اور انسانوں کے ساتھ ان کے بقائے باہمی کا امکان سائنس میں ایک دلچسپ موضوع رہا ہے، جس پر جدید تحقیق نے واضح موقف اختیار کیا ہے۔ تقریباً 66 ملین سال قبل ایک بڑا سیارچہ زمین سے ٹکرایا، جسے ڈائنوسار کے خاتمے کی سب سے زیادہ قبول شدہ وجہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ٹکراؤ نے مٹی، راکھ اور گیسوں کو فضا میں پھیلا دیا، جس سے سورج کی روشنی کئی سالوں تک کم ہو گئی۔ اس سے پودوں کی نشوونما رک گئی، خوراک کا سلسلہ ٹوٹ گیا، اور بالآخر 75 فیصد تک جاندار انواع ختم ہو گئیں، جن میں غیر پرندے ڈائنوسار بھی شامل تھے۔ تاہم، کچھ سائنسدان اس بات پر بھی غور کرتے ہیں کہ اس وقت بھارت میں شدید آتش فشانی (Deccan Traps) پہلے ہی ماحول کو نقصان پہنچا رہی تھی، جس نے ڈائنوسار کی مشکلات میں اضافہ کیا ہو گا۔
اس حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا آج کا انسان ڈائنوسار کے ساتھ رہ سکتا تھا۔ سائنس کا اس پر واضح جواب ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ غیر پرندے ڈائنوسار تقریباً 66 ملین سال قبل ختم ہو گئے، جبکہ ہومو سیپینز یعنی جدید انسان صرف تقریباً 3 لاکھ سال پہلے ظاہر ہوئے۔ ان کے درمیان کروڑوں سال کا فاصلہ ہے۔ اس دور میں موجود ممالیہ بہت چھوٹے تھے، چوہے نما مخلوق کی طرح، اور وہ ڈائنوسار کے سائے میں رہتے تھے۔
سائنسدان عام طور پر مانتے ہیں کہ اگر سیارچہ نہ ٹکراتا تو ممالیہ کو اتنی بڑی تعداد میں پھیلنے اور انسانوں کے ارتقا کا موقع شاید نہ ملتا۔ ڈائنوسار کے ختم ہونے نے ہی ممالیہ کے لیے خالی جگہیں پیدا کیں، جن میں وہ پھیل سکے۔ آج کل ڈائنوسار کی نسل دراصل پرندوں کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پرندے دراصل زندہ ڈائنوسار ہیں، اور انسان ان کے ساتھ بآسانی رہ سکتے ہیں، جیسے مرغیاں پالنا یا چڑیا گھر میں پرندے دیکھنا۔ خلاصہ یہ کہ ڈائنوسار کا خاتمہ ایک عالمی تباہی تھی، اور انسانوں کا ارتقا اسی خالی جگہ کے بعد ممکن ہوا۔ فلموں اور کہانیوں میں ان کا ساتھ دکھانا دلچسپ ہے، لیکن حقیقت میں یہ کبھی نہیں ہوا۔