ہنگری نے یورپی یونین کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ہنگری نے یورپی یونین کی عدالتِ عظمیٰ میں مقدمہ دائر کر کے روسی توانائی کی سپلائی پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اعلان ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سزیجارٹو نے کیا ہے۔ یورپی یونین کونسل نے گزشتہ ماہ ایک منصوبہ منظور کیا تھا جس کے تحت 2028 تک روسی گیس کی درآمدات کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت مختصر مدتی معاہدے 6 ماہ میں ختم ہوں گے اور باقی تمام پائپ لائن اور ایل این جی سپلائی 2027 کے اختتام تک بند ہو جائیں گی۔
اس فیصلے پر کئی رکن ممالک نے تنقید کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدام توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ہنگری اور سلوواکیہ نے اس منصوبے کی حمایت سے انکار کر دیا تھا۔
ایکس پر اعلان کرتے ہوئے سزیجارٹو نے کہا کہ ہنگری “REPowerEU ریگولیشن” کو چیلنج کر رہی ہے جو روسی توانائی کی درآمد پر پابندی لگاتی ہے اور اسے کالعدم قرار دینے کی درخواست کر رہی ہے۔
انہوں نے مقدمے کی بنیاد تین اہم دلائل پر رکھی ہے:
توانائی کی درآمدات پر پابندیاں صرف پابندیوں کے ذریعے عائد کی جا سکتی ہیں جن کے لیے تمام رکن ممالک کی متفقہ منظوری درکار ہوتی ہے۔
ہنگری اور سلوواکیہ کی مخالفت کے باوجود یہ اقدام “تجارتی پالیسی” کے بہانے منظور کیا گیا۔
یورپی یونین کے معاہدوں کے مطابق ہر رکن ملک اپنے توانائی کے ذرائع اور سپلائرز کا خود فیصلہ کرتا ہے۔ یہ ریگولیشن توانائی کی یکجہتی (energy solidarity) کے اصول کی بھی خلاف ورزی ہے۔
سزیجارٹو نے خبردار کیا کہ روسی تیل اور گیس کے بغیر ہنگری کی توانائی کی سلامتی یقینی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی خاندانوں کے لیے کم قیمت توانائی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق متبادل ذرائع “زیادہ مہنگے اور کم قابل اعتماد” ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقدمہ تقریباً ڈیڑھ سے دو سال تک چل سکتا ہے اور اسے مکمل طور پر لڑا جائے گا۔ اس کے لیے موجودہ حکومت کو اگلے انتخابات میں بھی جیتنا ہوگا۔
سزیجارٹو نے بین الاقوامی توانائی کے ماہرین پر الزام لگایا کہ وہ ہنگری کو سستے روسی توانائی سے ہٹا کر مہنگے امریکی گیس کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی یونین 2030 تک اپنی تقریباً نصف گیس سپلائی امریکہ سے حاصل کرنے کی طرف گامزن ہے۔
2022 میں یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد روسی تیل اور گیس کی درآمدات کم ہونے سے یورپی یونین میں توانائی کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ گئی ہیں۔ ماسکو کا موقف ہے کہ مغربی ممالک مہنگے اور غیر مستحکم متبادل اپنا کر اپنی معیشتوں کو خود نقصان پہنچا رہے ہیں۔