ہنگری کا یوکرین کے ممکنہ حملوں کے خلاف فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے ملک کے مشرقی علاقوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے فوجی یونٹس اور اضافی پولیس فورس تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ یوکرین سے ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اوربان نے بدھ کو ایکس پر بیان میں کہا کہ ملک کی خفیہ ایجنسیوں کی حاصل کردہ انٹیلی جنس کے مطابق کییف مزید اقدامات کی تیاری کر رہا ہے جو ہنگری کے توانائی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا: “میں نے اہم بنیادی ڈھانچے کی مضبوط حفاظت کا حکم دیا ہے، ضروری جگہوں پر فوج تعینات کی جائے گی، پولیس کی موجودگی بڑھائی جائے گی اور صوبہ سزابولچ-ساتمار-بیریگ میں ڈرونز پر پابندی عائد کی جائے گی۔” یہ صوبہ یوکرین کی سرحد سے ملحق ہے۔
اوربان کے سیاسی ڈائریکٹر بالاز اوربان نے دعویٰ کیا کہ دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ کییف ہنگری کے توانائی نظام کو متاثر کرنے کے لیے اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ہنگری نے ڈروژبا آئل پائپ لائن تنازع کے باعث یوکرین کو روسی تیل کی ٹرانزٹ روکنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ پائپ لائن جنوری کے آخر سے بند ہے۔ کییف کا دعویٰ ہے کہ روسی حملوں سے نقصان پہنچا ہے جبکہ ماسکو اس کی تردید کرتا ہے۔ ہنگری اور سلوواکیہ دونوں نے یوکرین پر سیاسی وجوہات سے سپلائی روکنے کا الزام لگایا ہے اور جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔
ہنگری نے حال ہی میں یورپی یونین کے روس کے خلاف نئی پابندیوں کے پیکج اور یوکرین کو 90 ارب یورو (تقریباً 106 ارب ڈالر) کے ایمرجنسی قرض کو ویٹو کر دیا تھا۔ یہ قرض گزشتہ سال کے آخر میں طے پایا تھا لیکن ہنگری، سلوواکیہ اور چیک ریپبلک نے اس میں مالی حصہ ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ یورپی یونین کی قیادت نے اس ویٹو کی شدید مذمت کی ہے اور اوربان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مشترکہ فیصلوں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے اوربان کو خط لکھ کر کہا ہے کہ “اس عزم کی خلاف ورزی مخلصانہ تعاون کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔” جواب میں اوربان نے کوسٹا کو لکھا: “ہم ایک ایسا فیصلہ لیتے ہیں جو یوکرین کے لیے مالی طور پر فائدہ مند ہے جس کی میں ذاتی طور پر مخالفت کرتا ہوں، پھر یوکرین ہنگری میں توانائی کا ایمرجنسی بحران پیدا کر دیتا ہے اور آپ مجھ سے کہتے ہیں کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں۔”