میں بین الاقوامی قوانین کے تابع نہیں، ٹرمپ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جنوری کو کہا کہ امریکی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے انہیں بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے بقول، دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں کی قیادت کرتے وقت ان پر پابندی لگانے والا واحد عنصر ان کے اپنے “اخلاقی معیار اور ارادہ” ہیں۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ عالمی سطح پر اختیارات کے استعمال کو صرف ان کے ذاتی “اخلاقی معیار اور ارادہ” ہی محدود کر سکتے ہیں اور “یہ وہ واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے”۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی حکومت کو بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنی چاہیے تو ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ بین الاقوامی قانون کے تحت محدود ہوتا ہے تو اس صورت میں وہ خود “ثالث” ہوں گے۔ یہ اب تک ٹرمپ کی جانب سے اپنے عالمی نظریے کا سب سے واضح اعتراف ہے، جس کے مطابق وہ امریکی بالادستی کو مضبوط بنانے کے لیے کسی بھی فوجی، معاشی یا سیاسی ذریعے کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ ممالک کے درمیان تنازعات میں فیصلہ کن عنصر قانون، معاہدے یا کنونشن نہیں بلکہ قومی طاقت ہونی چاہیے۔ یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے حالیہ مہینوں میں متعدد بین الاقوامی اقدامات کیے ہیں، جن پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔