اسرائیلی فوج کی ایران کی نئی قیادت کو قتل کرنے کی دھمکی
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اسرائیلی فوج آئی ڈی ایف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے بعد ان کی جگہ لینے والی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جو بھی شخص ایران کے نئے سپریم لیڈر کی حیثیت سے سامنے آئے گا یا اس کے تقرر میں کردار ادا کرے گا، وہ اسرائیل کے نشانے پر ہو سکتا ہے۔ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور ایران کے کئی دیگر سینئر عہدیدار 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے فضائی حملوں کی پہلی لہر میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک ہفتے کے غور و خوض کے بعد ایران کی مجلس خبرگان نے پیر کے روز اعلان کیا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ مجلس خبرگان کے فیصلے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے اپنے فارسی زبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کی ریاست کا ہاتھ ہر اس شخص تک پہنچے گا جو نئے سپریم لیڈر کا جانشین بنے گا یا اس کے تقرر میں شامل ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج مجلس خبرگان کے اجلاس میں شریک علماء کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گی۔
اس سے قبل اسرائیل نے قم میں واقع مجلس خبرگان کے ہیڈکوارٹر پر بھی حملہ کیا تھا، تاہم اس کارروائی کے باوجود نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل متاثر نہیں ہوا۔ ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل آیت اللّٰہ خامنہ ای کی موت کو ایران میں انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کرنے میں ناکام رہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران میں نظام کی تبدیلی کو جنگ کے اہداف میں شامل قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایران نے ان کے مطالبات نہ مانے تو نیا سپریم لیڈر زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکے گا۔ ایران کے حکام اور فوجی قیادت نے اس کے جواب میں مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔