بھارت نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی

Indian Indian

بھارت نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت نے ایران میں موجود اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جہاں پرتشدد احتجاج جاری ہیں اور امریکہ کی ممکنہ مداخلت کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت ایران میں کم از کم دس ہزار سات سو پینسٹھ بھارتی شہری موجود ہیں۔ بدھ کے روز تہران میں بھارتی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ایران میں موجود بھارتی شہری، جن میں طلبہ، زائرین، تاجر اور سیاح شامل ہیں، بدلتی صورتحال کے پیش نظر کسی بھی دستیاب ذریعے سے ملک چھوڑ دیں۔ سفارت خانے نے ان افراد کو بھی ہدایات دی ہیں جو فوری طور پر روانہ نہیں ہو سکتے۔ ایڈوائزری کے مطابق جو بھارتی شہری فی الحال ایران سے نہیں نکل سکتے، وہ اپنی نقل و حرکت محدود رکھیں، ہجوم اور حساس مقامات سے دور رہیں اور تازہ معلومات اور مدد کے لیے بھارتی سفارت خانے سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سفری اور امیگریشن دستاویزات، بشمول پاسپورٹ اور شناختی کاغذات، ہر وقت اپنے پاس رکھیں۔ اس سے قبل پانچ جنوری کو بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسی دوران اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وائٹ ہاؤس نے خلیجی اتحادیوں کو ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے لیے تیار رہنے کی تنبیہ کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ایرانی مظاہرین کے لیے “مدد راستے میں ہے” اور انہیں ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔ خلیجی ممالک کے رہنماؤں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تو طاقت زیادہ سخت گیر اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ہاتھ میں جا سکتی ہے یا ملک بھر میں افراتفری پھیل سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی۔ایرانی تصادم میں شریک نہیں ہوں گے۔دوسری جانب تہران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کی غیرمشروط مذمت کرے، جبکہ ایران نے بدامنی کو ہوا دینے کا الزام واشنگٹن اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ ماسکو نے بھی مغرب پر الزام لگایا ہے کہ وہ معاشی احتجاج کو استعمال کرتے ہوئے ایران میں ریاستی نظام کو کمزور کرنے اور ایک رنگین انقلاب برپا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Advertisement