بھارت کا ریکارڈ دفاعی بجٹ، فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت نے مالی سال 2026-27 کے لیے دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ کرتے ہوئے 85 ارب ڈالر مختص کر دیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ہے۔ یہ اعلان بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں سالانہ بجٹ تقریر کے دوران کیا۔ دفاعی بجٹ میں یہ نمایاں اضافہ مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ مختصر مگر شدید فوجی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ بھارتی حکومت نے مسلح افواج کے لیے کیپیٹل اخراجات کی مد میں 23 ارب ڈالر مختص کیے ہیں، جن کا مقصد بڑے دفاعی خریداری منصوبوں کو فنڈ فراہم کرنا ہے۔ بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ یونین بجٹ 2026-27 بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق آپریشن سندور کے بعد دفاعی بجٹ کا بنیادی محور مسلح افواج کی جدید کاری ہے۔ یہ محدود فوجی کارروائی رواں سال کے آغاز میں پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ 7 سے 10 مئی کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا، جس سے قبل 22 اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان جھڑپوں میں میزائل نظام کا وسیع استعمال دیکھا گیا، جس سے طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتوں کی اہمیت اجاگر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں اور جدید جنگی سازوسامان، بشمول ڈرونز، کی خریداری پر خرچ کیا جائے گا۔
بھارتی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ بھارت ایک راکٹ اور میزائل فورس تشکیل دینا چاہتا ہے جو مختلف فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو، تاکہ جنگی مؤثریت میں اضافہ کیا جا سکے۔ بھارت نے 2025 میں متعدد دفاعی خریداریوں کی منظوری دی تھی، جن میں دسمبر میں 8.8 ارب ڈالر اور اگست میں تقریباً 7.6 ارب ڈالر کی خریداری شامل تھی، جس میں براہموس میزائل اور مسلح ڈرونز بھی شامل ہیں۔
بھارت دنیا کے بڑے دفاعی درآمد کنندگان میں شامل ہے اور طویل عرصے سے عسکری سازوسامان اور ٹیکنالوجی کے لیے روس پر انحصار کرتا رہا ہے۔ بھارت روسی میزائل ٹیکنالوجی کو خطے میں فضائی توازن برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس اور بھارت کے درمیان سوخوئی سو-57 طیاروں کی بھارت میں تیاری سے متعلق مذاکرات بھی حتمی مراحل میں ہیں، جبکہ روس پہلے ہی بھارت میں بعض دفاعی آلات کی لائسنس یافتہ پیداوار میں شراکت دار ہے۔