توانائی کی فراہمی کے لیے روسی تیل کی خریداری جاری رہے گی، بھارت

Indian petrol pump Indian petrol pump

توانائی کی فراہمی کے لیے روسی تیل کی خریداری جاری رہے گی، بھارت

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ توانائی کی فراہمی کے لیے متعدد ذرائع برقرار رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر ان میں تنوع پیدا کرتا رہے گا، تاکہ صارفین کو مناسب قیمت پر قابلِ اعتماد اور محفوظ توانائی دستیاب رہے۔ یہ بات بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے پیر کے روز ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔ وکرم مسری نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ دعوے کے تناظر میں دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت نے روسی تیل کی براہِ راست یا بالواسطہ درآمد روکنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں بھارتی سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی اولین ترجیح اپنے صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے اور ملک کی توانائی پالیسی مناسب دستیابی، منصفانہ قیمت اور سپلائی کے تسلسل پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسی ایک ملک یا ایک ہی ذریعۂ توانائی پر انحصار نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت عالمی منڈی کی معروضی صورتحال کے مطابق مختلف ذرائع سے تیل اور توانائی حاصل کرتا ہے اور اس عمل میں قومی مفادات ہی حکومت اور توانائی کمپنیوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت بھارت سے تمام درآمدات پر عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف ختم کر دیا گیا تھا۔ یہ ٹیرف روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر عائد کیا گیا تھا۔

دوسری جانب کریملن نے بھی بھارت کے اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے بھارتی اعلان میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ادھر خبر رساں ادارے کے مطابق جنوری کے مہینے میں بھارت کی روسی تیل کی درآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی، کیونکہ مغربی پابندیوں کے دباؤ اور امریکہ بھارت تجارتی مذاکرات کے باعث بھارتی ریفائنریوں نے متبادل ذرائع سے تیل خریدنے کی کوشش کی۔

Advertisement