وینزویلا کے صدر کی گرفتاری میں وزیرِ داخلہ کی امریکا کو مدد کا انکشاف

Nicolas Maduro Nicolas Maduro

وینزویلا کے صدر کی گرفتاری میں وزیرِ داخلہ کی امریکا کو مدد کا انکشاف

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
خبر ایجنسی رائٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے سے کئی ماہ قبل وینزویلا کے وزیرِ داخلہ ڈیوسڈا ڈو کابیلو سے خفیہ مذاکرات کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کابیلو، جنہیں طویل عرصے تک صدر مادورو کا انتہائی وفادار ساتھی سمجھا جاتا رہا، ان رابطوں میں امریکا کے ساتھ پسِ پردہ تعاون پر آمادہ ہو گئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق ڈیوسڈا ڈو کابیلو خود بھی امریکا کو مطلوب تھے، تاہم اس کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا گیا، حالانکہ وہ اسی منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں نامزد تھے جس میں بعد ازاں صدر مادورو کو حراست میں لیا گیا۔ امریکی حکام نے کابیلو کو اس بات پر راضی کیا تھا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وہ اپنے زیرِ اثر سیکیورٹی اداروں، انٹیلی جنس سروسز اور مسلح حکومتی حامیوں کو اپوزیشن کے خلاف کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کو خدشہ تھا کہ مادورو کی اچانک گرفتاری کے بعد وینزویلا میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اسی لیے امریکا نے پہلے سے طاقتور سرکاری دھڑوں کو غیر متحرک رکھنے کے لیے خفیہ سفارتی اور سیکیورٹی رابطے قائم کیے۔

واضح رہے کہ تین جنوری کو امریکا نے وینزویلا میں ایک غیر معمولی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور منظم جرائم کے الزامات کے تحت عدالتی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس انکشاف نے وینزویلا کی حکمران اشرافیہ میں اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ آیا مادورو کی گرفتاری محض بیرونی دباؤ کا نتیجہ تھی یا اندرونی غداری نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔

Advertisement