اقوام متحدہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران مخالف پالیسی ترک کرنے کا حکم دے، ایران

Iran Iran

اقوام متحدہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران مخالف پالیسی ترک کرنے کا حکم دے، ایران

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے خلاف غیر مستحکم اور جارحانہ پالیسیاں ترک کرنے کا حکم دے۔ یہ مطالبہ ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ امیر سعید عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے موجودہ صدر ابوکر داہر عثمان کو لکھے گئے خط میں پیش کیا ہے۔ عراقچی نے خط میں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل، خاص طور پر اس کے ذمہ دار ارکان، چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مندرجہ ذیل اقدامات فوری طور پر کریں:
امریکہ کی جانب سے تشدد کی ترغیب، طاقت کے استعمال کی دھمکیوں اور ایران کے داخلی امور میں مداخلت کی تمام شکلوں کی واضح مذمت کریں. امریکہ اور اسرائیلی رژیم کو فوری طور پر ایران مخالف غیر مستحکم پالیسیاں اور طریقہ کار روکنے کا حکم دیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پابندی کریں.
امریکہ کو ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کے غلط فیصلے سے خبردار کریں. ایرانی نمائندہ نے زور دیا کہ “امریکہ اور اسرائیلی رژیم معصوم شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کی جانوں کے ضیاع کے لیے براہ راست اور ناقابل تردید قانونی ذمہ دار ہیں۔”
یہ خط ایران میں جاری داخلی کشیدگی اور بیرونی مداخلت کے الزامات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں تہران امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔