ایران کے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی شہید، ایرانی حکام کی تصدیق

Ali Larijani Ali Larijani

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے اس حملے میں علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی کے بھی شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق علی لاریجانی کو مشرقی تہران میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے وہاں گئے ہوئے تھے۔ حملے کے بعد ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود سرکاری اکاؤنٹ سے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے ایک مختصر بیان جاری کیا گیا جس میں لکھا گیا کہ “خدا کا ایک بندہ، خدا سے جا ملا۔” اس سے قبل علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا پیغام بھی جاری کیا گیا تھا جس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنایا ہے۔

67 سالہ علی لاریجانی انقلاب ایران کے بعد ابھرنے والی نمایاں سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ایران کے ایک بااثر مذہبی اور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور کئی مواقع پر صدارتی انتخابات میں اہم امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ علی لاریجانی نے تقریباً بارہ سال تک ایران کی مجلسِ شورٰی کے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس دوران پارلیمنٹ کی قیادت کی۔ اس کے علاوہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے چیف مذاکرات کار بھی رہ چکے تھے۔ سیاسی حلقوں میں علی لاریجانی کو ایران کی قدامت پسند مگر نسبتاً معتدل سوچ رکھنے والی اہم سیاسی شخصیت سمجھا جاتا تھا اور ملکی سیاست میں ان کا کردار طویل عرصے تک نمایاں رہا۔