ایران سستے ڈرونز سے امریکہ کے مہنگے میزائلوں کو ختم کررہا ہے، رپورٹ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایران سستے ڈرونز کا استعمال کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو معاشی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ حکمت عملی امریکی اور اتحادی افواج کے مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کو تیزی سے ختم کر رہی ہے۔ رپورٹ میں ہائیلو ڈرون مینوفیکچرر کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی آرتھر ایرکسن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ “ایک ڈرون کو آسمان میں بھیجنے سے کہیں زیادہ مہنگا ہے اسے گرانا۔ یہ ایک پیسوں کا کھیل ہے۔ فی شاٹ یا فی انٹرسیپشن لاگت کا تناسب کم از کم 10 سے ایک ہے، لیکن یہ 60 یا 70 سے ایک تک بھی جا سکتا ہے جو ایران کے حق میں ہے۔”
نیو یارک ٹائمز نے مزید بتایا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر واشنگٹن اور اس کے شراکت داروں میں خدشہ بڑھ رہا ہے کہ خطے کے دفاع کے لیے درکار انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر ختم ہو جائیں گے۔ ماہرین اس صورتحال کا موازنہ یوکرین سے کر رہے ہیں جہاں اتحادی افواج کافی ایئر ڈیفنس صلاحیتوں کی فراہمی میں ناکام رہی ہیں۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے بتایا کہ امریکہ نے حال ہی میں انٹرسیپٹرز کی خریداری محدود مقدار میں کی ہے یعنی سینکڑوں کی بجائے ہزاروں کی تعداد میں نہیں۔ نئے معاہدوں پر دستخط کے باوجود، جاری تنازع کے دوران فیکٹریوں کو بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں کئی سال لگ جائیں گے۔