ایران میں ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، احتجاج شدت اختیار کرگیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران اس وقت ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق یہ بندش ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک بھر میں مہنگائی، معاشی بدحالی اور قومی کرنسی کی شدید گراوٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے زور پکڑ چکے ہیں۔ نیٹ بلاکس نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ کی یہ بندش ڈیجیٹل سنسرشپ کے بڑھتے ہوئے اقدامات کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں جاری احتجاج کو محدود کرنا ہے۔ ادارے کے مطابق اس اقدام نے ایک نہایت نازک وقت میں عوام کے باہمی رابطے اور معلومات تک رسائی کے حق کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دسمبر کے آخر سے ایران کے مختلف شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین خوراک، ایندھن اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں، بے روزگاری اور مقامی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، مقامی میڈیا اور سرکاری بیانات کی بنیاد پر اب تک کم از کم 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایرانی قیادت کی جانب سے ردِعمل متضاد نظر آ رہا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی اداروں کو مظاہروں سے نمٹنے میں “انتہائی ضبط” سے کام لینے کی ہدایت کی ہے، تاہم اس کے برعکس ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فسادات میں ملوث عناصر کو “ان کی جگہ دکھا دی جانی چاہیے”۔ اسی تناظر میں ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے مظاہرین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنڈے کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد سڑکوں پر نکل کر بدامنی پھیلائیں گے یا ایسے عناصر کی حمایت کریں گے، ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
انٹرنیٹ کی بندش اور سخت بیانات نے نہ صرف عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگر معاشی اصلاحات اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔