معاشی بحران اور کرنسی گراوٹ: ایران میں 2022 کے بعد بدترین بدامنی

Iran Protests Iran Protests

معاشی بحران اور کرنسی گراوٹ: ایران میں 2022 کے بعد بدترین بدامنی

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران اس وقت 2022 کے بعد بدترین عوامی بدامنی کی لپیٹ میں ہے، جہاں شدید معاشی بحران اور قومی کرنسی ریال کی تاریخی گراوٹ کے باعث ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ تازہ صورتحال میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی جانب سے کھلے عام ان مظاہروں کی حمایت نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ احتجاجی لہر ہفتے کے اختتام پر اس وقت شروع ہوئی جب تہران کے تاجروں نے ہڑتال کردی۔ اس کی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں غیر معمولی کمی تھی، جو گر کر تقریباً 14 لاکھ 40 ہزار ریال فی امریکی ڈالر تک جا پہنچی، جبکہ ایک سال قبل یہی شرح 8 لاکھ 60 ہزار ریال کے قریب تھی۔ ایرانی حکام نے معاشی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا ’’فیصلہ کن جواب‘‘ دیا جائے گا۔ ایران کے روایتی حریف اسرائیل نے نہ صرف ان مظاہروں کی کھل کر حمایت کی بلکہ موساد نے اپنے فارسی زبان کے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا کہ اس کے ایجنٹ احتجاجی ہجوم کے اندر موجود ہیں۔ موساد کے پیغام میں کہا گیا، ’’اکٹھے ہو کر سڑکوں پر نکلیں، وقت آ چکا ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، نہ صرف دور سے بلکہ زمینی سطح پر بھی۔‘‘

احتجاج جلد ہی تہران سے نکل کر ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا اور بعض مقامات پر سیاسی رنگ بھی اختیار کر گیا۔ بعض مظاہرین نے 1979 کے اسلامی انقلاب میں ختم ہونے والی بادشاہت کی بحالی کے نعرے بھی لگائے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ ویڈیوز میں مظاہرین کو سرکاری عمارتوں اور اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) سے منسلک تنصیبات پر حملے کرتے اور انہیں آگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ شمال مغربی ایرانی شہر چنارہ میں بسیج (Basij) ملیشیا کے ایک اڈے کو نذر آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح مغربی شہر انزا اور نہاوند سے آنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں دیکھی گئی ہیں، جہاں بعض مقامات پر فائرنگ اور پتھراؤ بھی ہوا۔ ان جھڑپوں میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی اور ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر تصدیق محدود ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ احتجاج 2022 میں مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد ہونے والی ملک گیر بدامنی کے بعد سب سے شدید ہیں۔ اس وقت کے مظاہروں میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار کیے گئے تھے۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر ایران میں سیاسی، معاشی اور سماجی عدم استحکام کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

Advertisement