ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
چین نے کہا ہے کہ ایران این پی ٹی یعنی ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے کے ایک فریق کی حیثیت سے پرامن ایٹمی پروگرام اپنانے کا حق رکھتا ہے۔ چین کے اقوام متحدہ میں نائب مستقل نمائندے سن لی نے جمعرات کو جنرل اسمبلی سے خطاب میں یہ بیان دیا۔ انہوں نے ویٹو کے استعمال سے متعلق مکمل اجلاس میں کہا کہ این پی ٹی معاہدے کے ایک غیر ایٹمی ہتھیار رکھنے والے فریق کی حیثیت سے ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرنے کے اپنے وعدے کا احترام کرنا چاہیے، اور اس کے ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے جائز حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔
یہ بحث ستمبر میں ہونے والی اس ووٹنگ کے بعد سامنے آئی جس میں چین اور روس نے ایران پر پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے نگران پینل کی مدت میں توسیع کے لیے امریکہ کی پیش کردہ قرارداد کو روک دیا تھا۔ یہ نگران ادارہ اگست میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی (ای 3) کی جانب سے استعمال کیے گئے “اسنیپ بیک” میکانزم کے تحت بحال کیا گیا تھا، جس کا مقصد پابندیاں دوبارہ عائد کرنا تھا۔ چین اور روس اسنیپ بیک کو قانونی طور پر غیر موثر تصور کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ پابندیاں بحال نہیں ہوئیں۔
سن کے مطابق چین نے اپنا ویٹو استعمال کیا تاکہ “صحیح اور غلط کے درست ادراک” کو برقرار رکھا جا سکے، ایرانی ایٹمی مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کی جا سکے، عدم پھیلاؤ کے خدشات کو دور کیا جا سکے، اور مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
سفارتکار کے مطابق ایران کے ایٹمی پروگرام پر تعطل واشنگٹن کے جامع مشترکہ ایکشن پلان (جے سی پی او اے) سے یکطرفہ انخلا، اور اس کے بعد اسنیپ بیک کا استعمال کرنے سے قبل ای 3 کی جانب سے معاہدے کے تحت سفارتی آپشنز کو مکمل طور پر استعمال نہ کرنے سے پیدا ہوا۔
2015 کے معاہدے کے تحت ایران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنی افزودگی کی سرگرمیاں محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جسے ٹرمپ نے ملک کو ایٹمی ہتھیار کے حصول سے روکنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ روس نے اس حملے کی مذمت کی تھی اور اس کا مؤقف ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے۔
صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو سالانہ والدائی فورم میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی روسی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے ابتدا میں اس پر اتفاق کیا تھا، تاہم بعد میں اپنا موقف سخت کر کے اسے مسترد کر دیا۔
پوتن نے کہا کہ اگر اس عمل میں شامل تمام فریقین بالآخر یہ نتیجہ اخذ کریں کہ یہ کسی بھی طرح کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، تو ہم اس کام میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔