ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی تکنیکی اپ گریڈ مکمل، فوجی ڈاکٹرائن بھی تبدیل، آرمی چیف
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل اسلحے کی تمام تکنیکی جہتوں میں اپ گریڈ مکمل کر لی ہے اور فوجی ڈاکٹرائن کو دفاعی سے حملہ آور (آفینسو) میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ اعلان ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کیا ہے۔ ایک زیر زمین اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) میزائل تنصیبات کے دورے کے دوران جنرل موسوی نے کہا کہ “بیلسٹک میزائلوں کی تمام تکنیکی جہتوں میں اپ گریڈ کے ذریعے ایران نے اپنی روک تھام کی طاقت کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔”
انہوں نے اس اسٹریٹجک تبدیلی کو جون 2025 کی “12 روزہ جنگ” سے جوڑا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ جنرل موسوی نے کہا: “ہم نے اپنی فوجی ڈاکٹرائن کو دفاعی سے حملہ آور میں تبدیل کر دیا ہے اور اس میں غیر متناسب جنگ (asymmetric warfare) اور دشمنوں کو کچل دینے والے جواب کی پالیسی اپنائی ہے۔”
یہ اعلان امریکہ کی جانب سے خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کے بعد سامنے آیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن نے USS Abraham Lincoln کیریئر سٹرائیک گروپ اور اضافی ایئر ڈیفنس سسٹمز مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی کسی بھی حملے کی صورت میں فوری جواب دیا جائے گا جس میں “کوئی امریکی محفوظ نہیں رہے گا” اور یہ پورے علاقے کو وسیع جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے آر ٹی کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ ایک بارودی سرنگ کی مانند ہے اور امریکہ-ایران کشیدگی اسے دھماکہ خیز بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو، تہران کا قریبی پارٹنر ہونے کے ناطے، اگر دونوں فریق پرامن راستہ تلاش کریں تو تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ روس نے ایران سے افزودہ یورینیم لے جانے کی پیشکش بھی دہرائی ہے۔
دشمنانہ بیانات کے باوجود سفارتی چینلز فعال ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا کہ امریکہ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ یہ “دھمکیوں اور غیر معقول توقعات” سے پاک ہو۔ ایرانی اور امریکی سفارت کار جمعہ کو عمان میں تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے جو اپریل کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی رابطہ ہوگی۔