آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی ترسیل کیلئے ایران کی یوآن میں ادائیگی کی شرط

Chinese currency Chinese currency

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے سکتا ہے، بشرطیکہ تیل کی تجارت چینی کرنسی یوآن میں کی جائے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ اس ممکنہ اقدام کا مقصد اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے بہاؤ کو منظم کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہوتی ہے، تاہم پابندیوں کا شکار روسی تیل کی قیمتیں روبل یا یوآن میں طے کی جاتی ہیں۔ سی این این کا کہنا ہے کہ چین گزشتہ کئی برسوں سے تیل کی عالمی تجارت میں یوآن کے استعمال کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکی ڈالر اب بھی دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی کے طور پر غالب حیثیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان شروع ہونے والے تنازع کے بعد بھی عالمی توانائی کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہوئی تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، جبکہ عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً بیس فیصد حصہ بھی اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ اگر اس آبی گزرگاہ سے جہاز رانی پر پابندیاں عائد کی گئیں تو خطے میں جاری انسانی ہمدردی کی کارروائیوں پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے یکم مارچ سے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ یہ اقدام 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں تقریباً تیرہ سو افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے، جبکہ اس کے بعد سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔