ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مناسب مشاورت کے بعد جاپان سے منسلک جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کا اظہار کیا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا گیا اور یہ گزرگاہ بدستور کھلی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جاپان سے متعلق جہازوں کی آمدورفت کے معاملے پر تہران اور ٹوکیو کے درمیان مشاورت کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس سے قبل ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے متعلق کسی بھی تیل بردار کارگو کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ جاپان اور ایران کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ تعلقات قائم رہے ہیں۔ تاہم جاپانی حکومت نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے حوالے سے براہ راست سخت مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔ ٹوکیو نے سرکاری سطح پر صرف یہ مؤقف دہرایا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور مسئلے کا حل سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ جاپانی قیادت نے خلیج فارس کے بعض ممالک کے خلاف ایران کی جوابی کارروائیوں پر تنقید بھی کی ہے۔ جاپان کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے پورا ہوتا ہے اور تقریباً 95 فیصد تیل اسی خطے سے درآمد کیا جاتا ہے، جس کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے راستے جاپان پہنچتی ہے۔