امریکہ کی مداخلت کی صورت میں امریکی اڈے نشانہ بنیں گے، ایران کی سخت وارننگ

Mohammad Ghalibaf Mohammad Ghalibaf

امریکہ کی مداخلت کی صورت میں امریکی اڈے نشانہ بنیں گے، ایران کی سخت وارننگ

ماسکو (صداۓ روس)
ایران نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ملک میں جاری عوامی احتجاجات کے معاملے میں کسی قسم کی فوجی یا عملی مداخلت کی تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات ایران کے جائز اہداف ہوں گے۔ یہ انتباہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ قالیباف کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ “لاکڈ اینڈ لوڈڈ” ہے اور کسی بھی وقت کارروائی کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران میں “پرامن مظاہرین کو گولی مار کر قتل کیا گیا” تو واشنگٹن مداخلت کر سکتا ہے۔ ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجات کا آغاز دسمبر کے آخر میں اس وقت ہوا جب تہران میں تاجروں نے ہڑتال کی، کیونکہ ایرانی کرنسی ریال تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ یہ مظاہرے جلد ہی دیگر شہروں تک پھیل گئے اور بعد ازاں سیاسی اور پُرتشدد رخ اختیار کر گئے۔ ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ “امریکہ کے غیر مہذب صدر کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی گئی تو پورے خطے میں موجود تمام امریکی مراکز اور افواج ہمارے لیے جائز اہداف ہوں گے۔”

یہ احتجاجات دو ہزار بائیس کے بعد سب سے شدید سمجھے جا رہے ہیں، جب بائیس سالہ مہسا امینی پولیس حراست میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے حجاب درست طریقے سے نہیں پہنا تھا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں کئی ہفتوں تک شدید بدامنی رہی، جس میں دو سو سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران ہجوم نے سرکاری عمارتوں اور اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک تنصیبات پر حملے کیے۔ ان جھڑپوں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز دونوں کے جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ قالیباف نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی ایجنٹس نے جائز عوامی احتجاجات کو پُرتشدد شہری جھڑپوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، تاہم ایرانی سکیورٹی اداروں نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مظاہرین اور “غیر ملکی کرائے کے عناصر” کے درمیان فرق کرنا جانتا ہے اور وہ اپنے ہی عوام کے ساتھ کبھی ناروا سلوک نہیں کرتا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسرائیل نے کھلے عام ایران میں جاری بدامنی کی حمایت کی ہے، جبکہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد پہلے ہی ایران میں اپنی کارروائیوں کا اعتراف کر چکی ہے۔ ایران نے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ اس کی سلامتی میں کسی بھی بیرونی مداخلت کا جواب ایسا دیا جائے گا جس پر مداخلت کرنے والوں کو شدید پچھتاوا ہوگا۔

Advertisement