ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران اور امریکہ اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے خاموشی توڑ دی ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کم جونگ ان نے ایران امریکہ جنگ پر پہلی بار کھل کر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن اس سے بچنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کم جونگ ان نے فوجی اہلکاروں اور حکام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کو سخت تنبیہ کی اور اپنے ملک کی فوجی طاقت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو شرمناک اور غیر قانونی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کسی بھی ملک کی علاقائی خودمختاری اور قومی سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس سے بچنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ کے اس بحران کو اپنے جوہری پروگرام کے جواز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
کم جونگ ان نے دعویٰ کیا کہ دنیا گینگسٹر طرز کی منطق پر چل رہی ہے اور صرف وہی ممالک محفوظ رہ سکتے ہیں جن کے پاس بے پناہ طاقت ہو۔