آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ ملے گی، ایرانی سفیر

Oil Tanker Oil Tanker

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارت میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے اشارہ دیا ہے کہ جاری مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باوجود بھارتی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تہران نئی دہلی کو ایک دوست ملک سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کے مفادات کئی معاملات میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ آر ٹی انڈیا کے نمائندے کے سوال پر ایرانی سفیر نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کو اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ راستہ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایران کا دوست ہے اور اس حوالے سے پیش رفت جلد دیکھی جا سکے گی۔ محمد فتح علی نے مزید کہا کہ ایران اور بھارت خطے میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں اور نئی دہلی تہران کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد اس اہم آبی راستے میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر بھی فوری اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس خطے سے گزرنے والی خام تیل کی سپلائی پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں۔

اس ہفتے کے آغاز میں لائبیریا کے پرچم تلے سفر کرنے والا بھارت کے لیے روانہ ہونے والا پہلا تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر کے ممبئی کی بندرگاہ پہنچ گیا تھا۔

ایرانی سفیر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے۔ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی کشیدگی، شہری ہلاکتوں اور شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔

اسی دوران بھارتی وزیرِخارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اس گفتگو میں تہران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد اپنی پوزیشن واضح کی اور برکس ممالک سے حمایت کی اپیل کی، جبکہ بھارت نے علاقائی استحکام اور باہمی تعاون پر زور دیا۔