ایرانی جہاز ڈوبنے کا واقعہ، سری لنکا کی بحریہ نے 87 لاشیں برآمد کر لیں
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب ایرانی جنگی جہاز کے ڈوبنے کے واقعے میں سری لنکن بحریہ نے 87 افراد کی لاشیں برآمد کرلی ہیں۔ سری لنکن نیوی کے ترجمان کے مطابق بین الاقوامی پانیوں میں ڈوبنے والے ایرانی جہاز سے اب تک کم از کم 87 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ بحریہ کے کمانڈر بدھیکا سمپتھ نے بتایا کہ جب امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں تو جہاز کا کوئی ڈھانچہ نظر نہیں آیا، صرف تیل کے دھبے اور لائف رافٹس موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر میں کچھ افراد کو تیرتے ہوئے دیکھا گیا اور لاشوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ کے مطابق جہاز پر تقریباً 180 افراد سوار تھے، جبکہ بحریہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات اور دیگر تفصیلات سے متعلق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آگاہ کیا جائے گا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سری لنکن وزارتِ دفاع اور بحریہ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی جہاز Islamic Republic of Iran Navy کا جنگی جہاز “آئرس ڈینا” تھا، جو مبینہ طور پر آبدوز کے حملے کا نشانہ بنا۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔ تین امریکی حکام نے برطانوی خبر رساں ادارے Reuters سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی جہاز کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا۔ بعد ازاں امریکی حکام کی جانب سے کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ امریکی محکمہ دفاع کی جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی بحری جہاز کو تارپیڈو لگنے کے بعد زور دار دھماکہ ہوتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جہاز کو گمان تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ رہے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔