اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ، 31 نمازی شہید، 169 زخمی

Islamabad: Suicide blast in Imambargah Islamabad: Suicide blast in Imambargah

اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ، 31 نمازی شہید، 169 زخمی

اسلام آباد (صداۓ روس)
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 31 نمازی شہید اور 169 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں نمازی عبادت میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ کے گیٹ پر روکا گیا، جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قبل حملہ آور نے فائرنگ بھی کی، جس سے جائے وقوعہ پر شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کے فوراً بعد پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ واقعے کے بعد اسلام آباد کے تمام بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

اسپتال حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 106 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ پمز اسپتال میں 60 زخمی لائے گئے، پولی کلینک اسپتال میں 13 زخمی داخل کیے گئے جن میں سے 2 زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ فیڈرل جنرل اسپتال میں 27 زخمی، بینظیر اسپتال میں 2 جبکہ سی ڈی اے اسپتال میں ایک زخمی کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولی کلینک اسپتال میں خون کے عطیات کی فوری اپیل بھی کی گئی ہے، جہاں طبی عملے کے مطابق شدید زخمیوں کی جان بچانے کے لیے خون کی اشد ضرورت ہے۔

Advertisement

واقعے پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے شدید مذمت کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو فوری تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور دھماکے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولتیں فراہم کرنے اور وزیرِ صحت کو خود نگرانی کی ہدایت بھی جاری کی۔