ایران میں ہلاک بچوں کی لاشوں سے اسرائیلی ساخت کی گولیاں برآمد، روسی میڈیا
ماسکو (صداۓ روس)
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشوں سے اسرائیلی فوجی معیار کی گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ یہ انکشاف ایرانی سکیورٹی اداروں کے ایک ذریعے نے فرانزک تحقیقات کے حوالے سے کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اصفہان میں ایک آٹھ سالہ بچی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ خریداری کے لیے نکلی تھی کہ اچانک فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی۔ بچی کو پیٹ، ٹھوڑی اور سر کے پچھلے حصے میں گولیاں لگیں، جس کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکی۔ فرانزک معائنے میں ان گولیوں کو اسرائیلی فوجی معیار کی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور واقعے میں کرمانشاہ میں سات جنوری دو ہزار چھبیس کو تین سالہ بچی میلینا اسدی اپنے والد کے ہمراہ فارمیسی سے دودھ اور دوائیں خرید کر واپس جا رہی تھی کہ پیچھے سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس واقعے میں بھی دہشت گرد عناصر ملوث تھے۔
واضح رہے کہ ایران میں بدامنی کا آغاز انتیس دسمبر دو ہزار پچیس کو ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی کے بعد ہونے والے احتجاج سے ہوا، جو بعد ازاں بڑے شہروں تک پھیل گیا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق آٹھ جنوری کو مظاہرین کے درمیان مسلح دہشت گرد بھی نمودار ہوئے۔ ایرانی حکام نے ان فسادات کے پیچھے اسرائیل اور امریکا کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایرانی پولیس کے مطابق تیرہ جنوری تک تقریباً تین سو افراد کو سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر حملوں کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔