ججوں کو فیصلے صرف اور صرف قانون کی بنیاد پر کرنے چاہئیں-

آذربائیجان کی بین الاقوامی نیوز ایجنسی “وائس پریس” (VoicePress.az) کی نمائندہ جمیلہ چبوتاریووا نے آذربائیجان کی نامور قانون دان، سابق ججِ عدالتِ عظمیٰ برائے سنگین جرائم باکو، اور آذربائیجان بار ایسوسی ایشن کی رکن تمیلا نصراللائےوا سے خصوصی گفتگو کی۔ اس تفصیلی انٹرویو میں انہوں نے عدلیہ کے کردار، جج کے منصب کی ذمہ داریوں اور قانون کی بالادستی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تمیلا نصراللائےوا: ’’ججوں کو فیصلے صرف اور صرف قانون کی بنیاد پر کرنے چاہئیں‘‘

(ترجمہ: اشتیاق ہمدانی)

جج دراصل وہ شخصیت ہوتی ہے جسے عدالت میں مقدمات سننے، دلائل پر غور کرنے اور فیصلہ سنانے کا قانونی اختیار حاصل ہو۔ وہ معاشرے میں نظم و ضبط، انصاف اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ جج نہ صرف افراد کے درمیان بلکہ کمپنیوں، اداروں اور بعض صورتوں میں ریاستوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کرتا ہے۔

معاشرے میں انصاف کی فراہمی، شہری حقوق کے تحفظ، اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کی بنیاد بڑی حد تک عدلیہ اور خصوصاً ججوں کے فیصلوں پر استوار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جج کا عہدہ محض ایک سرکاری منصب نہیں بلکہ ایک بہت بڑی اخلاقی، قانونی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے۔
اس انٹرویو میں ہم نے تمیلا نصراللائےوا سے گفتگو کی کہ ایک جج کے لیے وسیع تجربہ، گہرے قانونی علم اور غیر معمولی ذمہ داری کا احساس کیوں ناگزیر ہے، اور یہ کہ بسا اوقات بظاہر “ناقابلِ احاطہ” زمروں — یعنی بے شمار مقدمات، پیچیدہ شواہد، انسانی نفسیات اور سماجی دباؤ — کو ایک ساتھ سنبھالنا کیسے ممکن ہوتا ہے۔
وائس پریس کی نمائندہ جمیلہ چبوتاریووا سے بات چیت میں تمیلا نصراللائےوا نے واضح الفاظ میں کہا کہ:

Advertisement

“ججوں کو فیصلے کرتے وقت صرف اور صرف قانون کو بنیاد بنانا چاہیے۔”

ان کے نزدیک جج کے لیے سب سے بڑا اصول یہی ہے کہ وہ ہر قسم کے ذاتی رجحان، جذباتی میلان، بیرونی دباؤ، سیاسی مفادات یا کسی بھی غیر متعلقہ اثر سے بالاتر ہو کر خالصتاً قانون، شواہد اور انصاف کی روشنی میں فیصلہ کرے۔
تعارفی نوٹ / پس منظر
تمیلا نصراللائےوا کا شمار آذربائیجان کے تجربہ کار اور باوقار قانونی ماہرین میں ہوتا ہے۔


تمیلا نصراللائےوا کی پیدائش 1953ء میں ہوئی۔

1987ء سے 2000ء تک وہ باکو شہر کی بنیگدی (Binagadi) ضلعی عدالت کی چیئرپرسن (صدر جج) رہیں۔

2000ء سے 2007ء تک انہوں نے باکو شہر کی نظامی (Nizami) ضلعی عدالت کی سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

2007ء سے 2011ء تک وہ آذربائیجان کی جمہوریہ کی عدالت برائے سنگین جرائم میں جج کے منصب پر فائز رہیں۔

2011ء سے 2018ء تک انہوں نے باکو کی عدالت برائے سنگین جرائم میں بطور جج خدمات سرانجام دیں۔

مئی 2019ء سے وہ آذربائیجان بار ایسوسی ایشن (Коллегия Адвокатов Азербайджанской Республики) کی رکن ہیں اور تاحال ایک فعال وکیل کے طور پر وکالتی فرائض انجام دے رہی ہیں۔

تمیلا نصراللائےوا کا پیشہ ورانہ سفر اس بات کی واضح مثال ہے کہ عدلیہ میں طویل تجربہ، قانونی نظام کی گہری سمجھ اور انسانوں کے مسائل کو قریب سے دیکھنے کا عمل کسی بھی جج کے اندر کس طرح توازن، سنجیدگی اور عدل پر مبنی فیصلوں کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ انٹرویو اُسی تجربے، علم اور مشاہدے کا نچوڑ ہے، جو وہ آنے والی نسل کے قانون دانوں اور ججوں کے لیے ایک رہنما روشنی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
(آئندہ حصوں میں سوال و جواب کی صورت میں مکمل انٹرویو پیش کیا جائے گا۔)