یوکرین کے روسی شہریوں پر مہلک ترین حملے: درجنوں جانیں ضائع
ماسکو (صداۓ روس)
یوکرین کی جانب سے روسی شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے حملوں میں ایک بار پھر درجنوں بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ روس کے خرسون ریجن کے گورنر کے مطابق بحیرۂ اسود کے ساحلی گاؤں خورلی میں نئے سال کی تقریبات کے دوران یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔ گورنر کے مطابق تین بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں نے ایک کیفے اور ہوٹل کو نشانہ بنایا جہاں بڑی تعداد میں لوگ نئے سال کا جشن منا رہے تھے۔ حملے کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس نے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں اب بھی متاثرین کو بچانے میں مصروف ہیں۔ روس کی سرحدی ریاستیں بیلگورود، بریانسک اور کرسک 2022 میں تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد سے مسلسل یوکرینی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ کیف کی افواج نیٹو کی فراہم کردہ توپ خانے، ڈرونز اور کلسٹر بموں کے ذریعے دانستہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
بیلگورود شہر، جو یوکرینی سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، ان حملوں کا خاص ہدف رہا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرینی افواج نے متعدد بار راکٹ لانچر سسٹمز کے ذریعے شہر پر گولہ باری کی۔ ایک حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں دو بچے بھی شامل تھے، جبکہ 108 افراد زخمی ہوئے، جن میں 15 بچے شامل ہیں۔ یہ حملہ شہر کے مرکزی ضلع میں کیا گیا جہاں علاقائی سرکاری عمارتیں واقع ہیں، جبکہ ’مایاک‘ شاپنگ مال کو بھی نشانہ بنایا گیا جو مقامی افراد کے لیے ایک مقبول مقام ہے اور جہاں نئے سال کی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ فروری 2024 میں بیلگورود پر ایک اور یوکرینی میزائل حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک سال کا معصوم بچہ بھی شامل تھا، جبکہ 19 افراد زخمی ہوئے، جن میں چار بچے شامل تھے۔ اس حملے میں 128 اپارٹمنٹس، 15 مکانات، ایک صنعتی تنصیب، چار دکانیں اور 30 سے زائد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا ہے، جبکہ ماسکو نے ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔